اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے ملک کی معاشی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں امیر اور غریب کے درمیان فرق خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور معیشت متعدد چیلنجز کی زد میں ہے،مہنگائی،غربت،شرح سود اور کاروباری لاگت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے جبکہ بیرونی سرمایہ کاری تاریخی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق محمد زبیر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران عوام کی قوت خرید میں نمایاں کمی آئی ہے اور یہ 65 فیصد تک گر چکی ہے،جس کے باعث عام آدمی کیلئے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت کا آئندہ بجٹ عوام کیلئے سب سے سخت ثابت ہو سکتا ہے اور اس کے اثرات براہ راست عوام پر پڑیں گے۔انہوں نے حکومتی موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ معاشی بدحالی کو موجودہ یا ممکنہ جنگی صورتحال سے جوڑنا درست نہیں،کیونکہ معیشت کی خراب حالت اس سے پہلے ہی واضح تھی۔ان کے مطابق جب ملک میں بجلی کی قیمتیں خطے میں سب سے زیادہ ہوں اور ٹیکسز کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہو تو بیرونی سرمایہ کاری کا آنا مشکل ہو جاتا ہے۔سابق گورنر سندھ نے مزید کہا کہ بیرونی سرمایہ کاری میں گزشتہ دو برسوں کے دوران نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی شدید گراوٹ آئی۔اپریل 2022 میں ملک کے ڈیفالٹ ہونے کے دعوے کو بھی انہوں نے مسترد کرتے ہوئے اسے حکومتی بیانیہ قرار دیا۔
محمد زبیر نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں میں ٹیکس وصولیوں میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا مگر اس کے باوجود معیشت مستحکم نہ ہو سکی۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کے پانچویں بجٹ میں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے تھا مگر موجودہ حالات میں ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔انہوں نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ چند سال قبل فی یونٹ بجلی کی قیمت 16 روپے تھی جو اب بڑھ کر 60 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ان کے مطابق اگر بروقت اور موثر فیصلے کیے جائیں تو اب بھی معاشی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے تاہم اس کیلئے حقیقت پسندانہ پالیسیوں کی ضرورت ہے۔