لاڑکانہ(ایگزو نیوز ڈیسک)چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے طرزِ سیاست پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی اپنے قائد کی گرفتاری پر قومی اداروں پر حملے کرتی تو شاید آج پارٹی کا وجود ہی سوالیہ نشان بن چکا ہوتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب قانون حرکت میں آتا ہے تو پھر شکایت کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ انتہاپسندی کی سیاست نہ صرف خود سیاسی جماعتوں بلکہ ریاستی استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاڑکانہ کے چلڈرن ہسپتال میں جدید آئی سی یو کے افتتاح کے موقع پر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ملکی سیاست کے موجودہ تناظر، تحریک انصاف کے طرزِ عمل، ریاستی ردِعمل، مفاہمتی سیاست، انتخابی اصلاحات، قومی سلامتی اور سندھ حکومت کی کارکردگی پر کھل کر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی سیاسی جماعت کی قیادت کی گرفتاری پر قومی اداروں پر حملے کیے جائیں گے تو پھر قانون کے مطابق کارروائی پر شکوہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ریاست ایسے اقدامات پر خاموش نہیں رہ سکتی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تحریک انصاف نے اپنے قائد کی گرفتاری کے بعد جس طرح اداروں پر حملے کیے، وہ ایک نہایت سنگین اور خطرناک مثال ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہی قدم پیپلز پارٹی اٹھاتی تو اس کے نتائج کیا ہوتے؟ پیپلز پارٹی کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اسے ہمیشہ سخت ترین رویوں، مقدمات، سزاو¿ں اور قربانیوں کا سامنا کرنا پڑا مگر اس کے باوجود پارٹی نے کبھی اداروں پر حملے کا راستہ اختیار نہیں کیا، حیرت کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ اس تمام تر صورتحال کے باوجود کچھ خاص نہیں ہوا، حالانکہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی استحکام اور جمہوریت کی بقا کے لیے حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں دونوں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی، اگر سیاست کو انتہاپسندی کی طرف لے جایا جائے گا تو پھر اس کے جواب میں آنے والی سختی پر شکایت کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا۔ بلاول بھٹو نے انگریزی محاورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی باورچی خانے کی گرمی برداشت نہیں کر سکتا تو اسے وہاں نہیں ہونا چاہیے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے واضح کیا کہ اگر کسی سیاسی رہنما کے خلاف نیب کا ایک نسبتاً معمولی مقدمہ بنتا ہے اور اس کے ردعمل میں قومی اداروں پر حملے کیے جاتے ہیں تو پھر قانون حرکت میں آئے گا، بعد میں یہ کہنا کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، درست نہیں ہوگا کیونکہ یہ سب اقدامات کے منطقی نتائج ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز گڑھی خدابخش میں بھی انہوں نے پارٹی کارکنان کے سامنے یہی سوال رکھا تھا اور آج ایک بار پھر عوام سے پوچھ رہے ہیں کہ اگر پیپلز پارٹی اپنے قائد کی گرفتاری پر اس نوعیت کا ردعمل دیتی تو اس کا کیا انجام ہوتا؟ پیپلز پارٹی کے تجربے اور تاریخ کی روشنی میں یہی مشورہ ہے کہ تحریک انصاف انتہاپسندی کی سیاست ترک کرے اور اپنی سیاست کو جمہوری دائرے میں واپس لائے، کیونکہ یہی راستہ نہ صرف ان کی جماعت، قیادت اور کارکنوں بلکہ پورے ملک کے لیے بہتر ہے۔ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مفاہمتی سیاست پیپلز پارٹی کا بنیادی فلسفہ ہے اور اس فلسفے پر سب سے زیادہ عمل صدر آصف علی زرداری نے کیا ہے، موجودہ سیاسی حالات میں بھی مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے صدر زرداری کو ہی کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ ان کے پاس اس حوالے سے ایک طویل تاریخ اور تجربہ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت شدید چیلنجز سے دوچار ہے، بھارت اور افغانستان کی سرحدوں پر صورتحال کشیدہ ہے، اندرونِ ملک دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں، ایسے حالات میں اگر کوئی سیاسی جماعت انتہاپسند تنظیم کے طرز پر کام کرے گی تو ریاست کا ردعمل بھی اسی نوعیت کا ہوگا۔بلاول بھٹو نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر وفد بھیجا تاہم اس موقع پر کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو سیاسی مسائل کا حل بھی سیاسی طریقے سے ہی نکالنا چاہیے کیونکہ یہی عوام کے مفاد میں ہے۔انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ الیکشن اپنے آئینی وقت پر ہوں گے، شفاف اور منصفانہ انتخابات کے لیے اگر کوئی اصلاحات درکار ہیں تو تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر ان پر کام کرنا چاہیے، ابھی انتخابات میں وقت موجود ہے، جے یو آئی سمیت تمام جماعتیں انتخابی اصلاحات پر توجہ دیں اور اپنے اعتراضات دور کریں۔صحت کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں صحت کی اہم اور جدید سہولیات فراہم کی ہیں جو کسی اور صوبے میں اس سطح پر دستیاب نہیں، آئی سی یو جیسی انتہائی حساس اور عالمی معیار کی مہنگی سہولت لاڑکانہ میں شروع کی جا رہی ہے،چائلڈ لائف فاو¿نڈیشن کے تعاون سے سندھ بھر میں بچوں کے لیے معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، بچوں کی کم ترین شرح اموات اب سندھ میں ریکارڈ کی جا رہی ہے اور حکومت کا ہدف یہی ہے کہ یہ سہولیات صوبے کے ہر شہری تک پہنچیں۔ بلاول بھٹو نے اعتراف کیا کہ پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے اور عام آدمی کے لیے تنخواہ میں گزارا مشکل ہو چکا ہے، پیپلز پارٹی ایسی پالیسیاں متعارف کرانا چاہتی ہے جو عوام پر پڑنے والے معاشی بوجھ کو کم کریں اور شہید بے نظیر بھٹو کے منشور پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت کی جانب سے ترقی کے دعوے کیے جا رہے ہیں لیکن عام آدمی موجودہ معاشی صورتحال سے مطمئن نہیں،عوام کے لیے تعلیم اور علاج کے اخراجات ناقابلِ برداشت ہوتے جا رہے ہیں۔ نجکاری کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے مو¿قف کی وضاحت کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کا ماڈل پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ہے، جس کی کامیاب مثالیں سندھ ایگرو کول مائننگ کمپنی اور چائلڈ لائف فاو¿نڈیشن ہیں، معروف عالمی جریدے ایکانومسٹ نے سندھ حکومت کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو دنیا میں چھٹے نمبر پر رکھا ہے، جو صوبائی حکومت کی کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔
اگر پیپلز پارٹی اداروں پر حملہ کرتی تو کیا بچ پاتی؟قانون حرکت میں آئے تو شکوہ کیسا؟بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف کو آئینہ دکھا دیا
8