اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پنجاب میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،جہاں عالمی بینک نے ”کنیکٹڈ پنجاب“ پروگرام کے تحت 7 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دے دی ہے۔اس منصوبے کا مقصد صوبے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا،براڈبینڈ انٹرنیٹ کی رسائی میں اضافہ کرنا اور سرکاری خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق اس پروگرام کے تحت 2031 تک مزید 21 لاکھ افراد کو براڈبینڈ انٹرنیٹ سے منسلک کیا جائے گا جبکہ فکسڈ براڈبینڈ کوریج کو موجودہ 78 لاکھ سے بڑھا کر 99 لاکھ افراد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اس اقدام سے شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل فرق کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔منصوبے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے نجی شعبے کی شمولیت بھی شامل ہے،جس کے تحت 5 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔اس کے علاوہ رائٹ آف وے اجازت ناموں کے اجرا کے عمل کو تیز کرتے ہوئے اسے 90 دن سے کم کر کے 21 دن تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ ٹیلی کمیونیکیشن منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد ممکن ہو سکے۔پروگرام کے تحت 2031 تک 2 کروڑ 89 لاکھ افراد کو بہتر ڈیجیٹل سرکاری خدمات فراہم کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ خواتین کی ڈیجیٹل رسائی کو 19 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد تک لے جانے کا ہدف بھی شامل کیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت پر مبنی سرکاری خدمات کے فروغ کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔
مزید برآں، ڈیجیٹل انوائس مینجمنٹ سسٹم اور کیش لیس ادائیگیوں کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے،جس کے تحت ساڑھے تین لاکھ افراد کو فعال طور پر کیش لیس نظام سے منسلک کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔عالمی بینک کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کے قومی ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔مجموعی طور پر پروگرام کی مالیت 27 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ہے،جس میں عالمی بینک کی 70 ملین ڈالر کی معاونت کے ساتھ پنجاب حکومت 208 ملین ڈالر بطور شراکتی فنڈ فراہم کرے گی۔اس منصوبے کو صوبے میں ڈیجیٹل ترقی کے نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے،جس سے معیشت، گورننس اور عوامی خدمات کے شعبوں میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔