اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران ،امریکہ ممکنہ مذاکرات کے سلسلہ میں اسلام آباد کے ریڈ زون میں غیر معمولی انتظامات کے تحت حکومت نے تمام وفاقی اور سرکاری دفاتر آج (بدھ ) سے گھروں سے کام کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے جبکہ سپریم کورٹ میں بھی عملہ محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،اس اقدام کو موجودہ حالات کے تناظر میں احتیاطی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے،جس کا مقصد اداروں کی فعالیت برقرار رکھتے ہوئے سیکیورٹی اور انتظامی امور کو موثر انداز میں چلانا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ریڈ زون میں قائم تمام وفاقی دفاتر کے لیے حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے 22 اپریل کو ورک فرام ہوم کی ہدایات جاری کر دی ہیں تاہم دفاتر باضابطہ طور پر بند نہیں ہوں گے۔کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں وزارتوں،ڈویژنز اور دیگر سرکاری اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام افسران اور سیکرٹریل سٹاف سٹیشن پر موجود رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری دفتر پہنچنے کے لیے تیار رہیں۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ عملہ گھروں سے کام کرے گا تاہم مختصر نوٹس پر طلبی ممکن ہوگی اور تمام افسران کو اپنے سپروائزرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔اس اقدام کا مقصد بظاہر انتظامی تسلسل برقرار رکھتے ہوئے غیر معمولی حالات میں ردعمل کی صلاحیت کو یقینی بنانا ہے۔
دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی ہدایت پر سپریم کورٹ میں بھی عملہ کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔عدالت میں صرف محدود اور ضروری عملہ ہی ڈیوٹی انجام دے گا جبکہ دیگر افسران اور اہلکار گھروں سے اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔رجسٹرار آفس کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سپریم کورٹ 22 اپریل کو جزوی طور پر فعال رہے گی اور عدالت میں پیش نہ ہونے والے کسی بھی فریق یا وکیل کے خلاف کوئی منفی حکم جاری نہیں کیا جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ لاہور،کراچی،پشاور اور کوئٹہ میں قائم سپریم کورٹ کی برانچ رجسٹریاں معمول کے مطابق کھلی رہیں گی تاکہ عدالتی امور کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔حکومتی اور عدالتی سطح پر کیے گئے یہ اقدامات دارالحکومت میں ایک غیر معمولی انتظامی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں،جس کا مقصد بیک وقت سیکیورٹی،سہولت اور ادارہ جاتی فعالیت کو برقرار رکھنا ہے۔