Home » چھبیسویں آئینی ترمیم نہ ہوتی تو یحیٰ آفریدی چیف جسٹس نہ بنتے،سپریم کورٹ میں فل کورٹ تشکیل پر اہم بحث

چھبیسویں آئینی ترمیم نہ ہوتی تو یحیٰ آفریدی چیف جسٹس نہ بنتے،سپریم کورٹ میں فل کورٹ تشکیل پر اہم بحث

by ahmedportugal
7 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ ترمیم نہ ہوتی تو جسٹس یحییٰ آفریدی چیف جسٹس کے عہدے تک نہ پہنچ پاتے، آٹھ رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان نے کی، جبکہ جسٹس عائشہ ملک، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور دیگر ججز بھی بینچ کا حصہ تھے۔
ایگزو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کیسماعت کے دوران وکیل عابد زبیری نے اپنے دلائل میں موقف اپنایا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد بینچ کی تشکیل کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں، اس لیے موجودہ ججز کو اس مقدمے کی سماعت نہیں کرنی چاہیے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ”کیا کسی جماعت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک بینچ کو ہٹا کر دوسرا بینچ بنوا دے؟ کیا عدالت مخصوص ججز فراہم کرنے کی پابند ہے؟“۔جسٹس عائشہ ملک نے وکیل سے سوال کیا کہ ان کی درخواست کا بنیادی نکتہ کیا ہے؟ جس پر عابد زبیری نے کہا کہ ”ہماری درخواست یہ ہے کہ 26ویں ترمیم سے پہلے والے ججز کو مقدمہ سننا چاہیے“۔ اس پر جسٹس جمال نے مزید پوچھا”کیا آپ چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس خود بینچ میں شامل نہ ہوں؟“۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ عدالت آئین کے تابع ہے جبکہ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 191 اے فل کورٹ سے نہیں بلکہ بینچ کی تشکیل سے متعلق ہے۔ اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ”آرٹیکل 191 اے صرف آئینی بینچ کے دائرہ کار سے متعلق ہے، فل کورٹ کے قیام کا اختیار کہاں درج ہے؟“۔عابد زبیری نے کہا کہ فل کورٹ کے معاملے کو پہلے چیف جسٹس کے پاس جانا چاہیے۔جسٹس مظہر نے سوال کیا کہ جب چیف جسٹس روسٹر کے سربراہ ہی نہیں رہے تو معاملہ ان کے پاس کیسے جائے گا؟ کیا چیف جسٹس فل کورٹ بنانے کے پابند ہیں؟۔جسٹس مسرت ہلالی نے بھی پوچھا کہ کیا آئینی بینچ خود فل کورٹ تشکیل دینے کا حکم جاری کر سکتا ہے؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ آئینی بینچ جوڈیشل آرڈر کے ذریعے فل کورٹ کی ہدایت دے سکتا ہے۔بحث کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ایک اور اہم نکتہ اٹھایا کہ آپ 17 ججز پر مشتمل فل کورٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ سپریم کورٹ میں اس وقت 24 ججز ہیں، باقی ججز کو کیوں نظرانداز کیا جائے؟جسٹس نعیم افغان نے ریمارکس دیے کہ آپ کو پسند ہو یا نہ ہو، آرٹیکل 191 اے اس وقت آئین کا حصہ ہے اور اسی کے تحت چیف جسٹس کے اختیارات محدود ہو چکے ہیں۔دورانِ سماعت فل کورٹ کے اختیارات، چیف جسٹس کے دائرہ اختیار اور بینچوں کی تشکیل پر مفصل قانونی بحث جاری رہی۔ عدالت نے مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز