Home » مذاکرات ناکام کیوں ہوئے؟ایران کا دوٹوک موقف سامنے آ گیا

مذاکرات ناکام کیوں ہوئے؟ایران کا دوٹوک موقف سامنے آ گیا

by ahmedportugal
13 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ ناکام مذاکرات کے حوالے سے ایران نے اپنے موقف کی وضاحت  اور مذاکرات کی ناکامی کی حقیقی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض امور پر پیش رفت کے باوجود اہم نکات پر اختلافات برقرار رہنے کے باعث کوئی حتمی معاہدہ ممکن نہ ہو سکا۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کے دوران سنجیدہ اور تفصیلی بات چیت ہوئی تاہم چند بنیادی معاملات پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے کوئی مشترکہ فریم ورک تشکیل نہیں پا سکا۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی جلد بازی کا شکار نہیں اور وہ صرف اسی صورت کسی معاہدے کی جانب بڑھے گا جب امریکا ایک منصفانہ اور قابلِ قبول ڈیل پر آمادہ ہو گا۔ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی،جو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم موقف سمجھا جا رہا ہے۔ایرانی ترجمان نے اس بات کی نشاندہی کی کہ واشنگٹن کی جانب سے ایسے مطالبات سامنے آئے جو ایران کے مطابق نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ تھے بلکہ وہ جنگ کے دوران بھی حاصل نہیں کیے جا سکے تھے،جس کے باعث مذاکرات میں پیش رفت محدود رہی اور معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔اسماعیل بقائی نے پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی یہ بات چیت ایک اہم سفارتی کوشش تھی،جہاں حساس اور کلیدی معاملات پر کھل کر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز،ایران کے جوہری پروگرام،جنگی ہرجانے،پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔ان کے مطابق دو سے تین بڑے نکات پر اختلافات برقرار رہے،جو کسی بھی حتمی پیش رفت میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتا رہے گا اور کسی دباو کو قبول نہیں کرے گا۔ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ اس سفارتی عمل کی کامیابی کا انحصار مخالف فریق کی سنجیدگی،نیک نیتی اور حقیقت پسندانہ موقف اپنانے پر ہے۔ان کے بقول غیر ضروری اور غیر متوازن مطالبات سے گریز کرتے ہوئے ایران کے جائز مفادات کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی موقف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ مذاکرات مکمل طور پر ناکام نہیں ہوئے، تاہم بنیادی اختلافات کی موجودگی میں کسی بڑے بریک تھرو کا امکان فی الحال محدود دکھائی دیتا ہے، جس کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز