Home » فلسطین کو باقاعدہ ریاست تسلیم کیوں کیا؟نیتن یاہو برطانیہ،کینیڈا اور آسٹریلیا کے فیصلے پر سخت آگ بگولہ

فلسطین کو باقاعدہ ریاست تسلیم کیوں کیا؟نیتن یاہو برطانیہ،کینیڈا اور آسٹریلیا کے فیصلے پر سخت آگ بگولہ

by ahmedportugal
4 views
A+A-
Reset

یروشلم(ایگزو نیوز ڈیسک)اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی جانب سے فلسطین کو باقاعدہ ریاست تسلیم کرنے کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے اور دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ “دریائے اردن کے مغرب میں کوئی فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوگی۔”
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ ان ممالک کے رہنما جو فلسطینی ریاست کو تسلیم کر رہے ہیں، وہ دراصل دہشت گردی کو تقویت دے رہے ہیں اور ایسے اقدامات فلسطینی مزاحمت کو “انعام” دینے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی ریاست مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا جواب وہ امریکا سے واپسی پر دیں گے۔اسرائیلی وزیراعظم کے اس موقف نے بین الاقوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ حالیہ عرصے میں یورپ اور مغربی دنیا میں فلسطینی ریاست کے حق میں آوازیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو ماہرین مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی سفارتی ترجیحات کا اہم اشارہ قرار دے رہے ہیں۔خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں 1200 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائیاں شروع کیں جو تاحال جاری ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔غزہ کی وزارت صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی بمباری اور فوجی کارروائیوں میں اب تک 65 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ تباہ حال ہسپتال، کھنڈرات میں تبدیل بستیاں اور شدید انسانی بحران عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں لیکن اسرائیلی قیادت اپنے موقف پر قائم ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی کوئی گنجائش نہیں۔بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کے حالیہ اقدامات عالمی سیاست میں ایک بڑے سفارتی رخ کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے اس عمل کو “دہشت گردی کی حوصلہ افزائی” قرار دینا خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں عالمی برادری پر زور دے رہی ہیں کہ وہ فوری طور پر اسرائیل کو غزہ میں جاری فوجی کارروائیاں روکنے پر مجبور کرے اور فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کرے۔یہ صورتحال خطے میں امن کے امکانات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے اور ماہرین کے مطابق اگر سفارتی سطح پر کوئی بڑی پیش رفت نہ ہوئی تو مشرق وسطیٰ میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز