واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاوس کے قریب پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے نے امریکی دارالحکومت میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ بدھ کی سہ پہر گشت پر موجود نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی شناخت اب 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے طور پر ہوئی ہے،جو ماضی میں افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ خدمات انجام دے چکا ہے۔واقعے کے فوری بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے دہشت گردی قرار دیتے ہوئے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں پر فوری پابندی لگا دی جبکہ واشنگٹن میں سکیورٹی سخت کر دی گئی اور مزید فوجی اہلکار تعینات کیے گئے۔حکام کا کہنا ہے کہ دونوں زخمی نیشنل گارڈ اہلکاروں کی حالت تشویشناک ہے اور تفتیش جاری ہے جس سے امریکی پالیسی اور قومی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایگزو نیوز کے مطابق وائٹ ہاوس کے چند بلاکس کے فاصلے پر بدھ (26 نومبر 2025) سہ پہر ایک خطرناک گھات خور حملہ ہوا،جس میں دو نیشنل گارڈ اہلکار شدید زخمی ہوئے۔حملہ آور کو فوری جوابی کارروائی میں زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔امریکی حکام نے ملزم کی شناخت 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے نام سے کی ہے،جس کا ماضی امریکی اور افغان فوجی اداروں کے ساتھ وابستہ رہا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق لکنوال نے اچانک گارڈز پر فائرنگ شروع کی،جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔پولیس اور ایف بی آئی کی مشترکہ ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو قابو میں لیا۔دونوں زخمی اہلکاروں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے واقعے کو قومی سلامتی کے زاویے سے دیکھا اور اسے “ہدف بنا کر انجام دیا گیا حملہ” قرار دیا۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق رحمان اللہ لکنوال 2021 میں آپریشن الائیس ویلکم کے تحت امریکہ آیا تھا،جس میں طالبان کنٹرول کے بعد افغان شہریوں کو امریکہ میں آباد کیا گیا۔لکنوال نے افغان سپیشل فورسز میں تقریباً 10 سال خدمات انجام دیں اور بعض امریکی اداروں،بشمول سی آئی اے کے ساتھ بھی کام کر چکا تھا،وہ 2024 میں سیاسی پناہ کے لیے درخواست دہندہ تھا،جو 2025 میں منظور ہوئی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیا اور افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں پر فوری پابندی لگا دی۔ امریکی شہریت و امیگریشن سروسز نے اعلان کیا کہ تمام افغان امیگریشن درخواستیں غیر معینہ مدت کے لیے روک دی جائیں گی،جب تک سکیورٹی پروٹوکول کا جائزہ مکمل نہیں ہوتا۔وزیر دفاع اور سیکیورٹی حکام نے واشنگٹن میں مزید 500 فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کیا۔وائٹ ہاوس اور اطراف کے علاقوں کو وقتی طور پر سیل کر دیا گیا اور شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ایف بی آئی اور دیگر وفاقی ادارے موبائل فون ڈیٹا،سی سی ٹی وی فوٹیج، اور ملزم کے امیگریشن اور فوجی ریکارڈز کی تفصیلی جانچ کر رہے ہیں۔ تفتیشی ٹیمیں یہ دیکھ رہی ہیں کہ آیا ملزم اکیلا تھا یا اس کے پیچھے کوئی نیٹ ورک موجود ہے۔افغان ایویک نامی تنظیم نے کہا ہے کہ افغان تارکین وطن سخت جانچ سے گزرتے ہیں اور ایک فرد کے عمل کو پوری کمیونٹی کے ساتھ جوڑنا غیر منصفانہ ہوگا۔ سیاسی حلقوں میں واقعے پر گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے جبکہ انتظامیہ عوامی تحفظ اور ملک کی سکیورٹی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ملزم کے خلاف دہشت گردی اور حملے کے الزامات کے تحت فیڈرل سطح پر کیس چلایا جائے گا۔ پراسیکیوشن اور تحقیقات کے نتائج کے مطابق مزید قانونی کارروائی اور حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔یہ واقعہ امریکہ میں امیگریشن پالیسی، سکیورٹی اقدامات اور قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
