تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے یورپ کو مشکل میں ڈالتے ہوئے مشکل سوال داغ دیا اور کہا ہے کہ اسرائیل دوبارہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ نہیں کرے گا،اس کی گارنٹی کون دے گا؟
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ایرانی صدر نے واضح کیا کہ تہران عالمی ایٹمی معاہدوں اور عدم پھیلاو کے اصولوں پر عمل پیرا ہے لیکن اسرائیل مسلسل ان معاہدوں اور قوانین کو پامال کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی(آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور اپنے وعدوں کی پاسداری بھی کرتا رہا ہے۔دوسری جانب ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان کشیدگی ایک نئی سطح پر جا پہنچی ہے۔ایرانی دفتر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں تعینات ایرانی سفیروں کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا گیا ہے۔یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب یورپی ممالک نے عالمی پابندیوں کو موخر کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔تہران نے اس فیصلے کو غیر ذمہ دارانہ اور اپنے حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔سلامتی کونسل نے بھی ایران پر عائد عالمی پابندیوں کو موخر کرنے کی قرار داد کو مسترد کر دیا۔ یہ قرار داد چین اور روس نے پیش کی تھی تا ہم اسے مطلوبہ حمایت نہ مل سکی۔اس کے نتیجے میں عالمی منظر نامے پر ایران کے خلاف دوبارہ سخت پابندیوں کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔رپورٹس کے مطابق اگر یورپی طاقتوں کے ساتھ کوئی نیا معاہدہ نہ ہوا تو کل صبح پانچ بجے سے ایران پر اقوام متحدہ کی وہ تمام پابندیاں دوبارہ نافذ ہو جائیں گی جو 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کے تحت ختم کر دی گئی تھیں۔اس پیشرفت نے ایران کو شدید دباو میں ڈال دیا ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھنے کے امکانات بھی مزید واضح ہوگئے ہیں۔ایرانی صدر پزشکیان نے ایک بار پھر عالمی برادری سے شکوہ کیا کہ اسرائیل کے خلاف کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا جا رہا؟انہوں نے کہا کہ تہران پر پابندیوں اور دباو کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اسرائیل آزادانہ طور پر عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کرتا چلا جا رہا ہے۔ان کے بقول،ایران اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کا دفاع ہر حال میں کرے گا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی پابندیاں بحال ہوئیں تو ایران کی معیشت پر اس کے شدید اثرات مرتب ہوں گے،جو پہلے ہی دباو کا شکار ہے تا ہم ایران کی قیادت کا موقف ہے کہ وہ دباو کے باوجود اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی غیر منصفانہ شرط کو قبول نہیں کرے گی۔
اسرائیلی حملوں کی گارنٹی کون دے گا؟ایرانی صدر نے دوٹوک موقف اپناتے ہوئے یورپ کو مشکل میں ڈال دیا
7