واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)واشنگٹن ڈی سی میں ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ وائٹ ہاوس کی سالانہ تقریب اس وقت سنسنی اور خوف کی فضا میں بدل گئی جب ایک مسلح شخص نے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر فائرنگ کر دی۔واقعے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت نائب صدر،کابینہ اراکین اور دیگر اعلیٰ حکام محفوظ رہے جبکہ خفیہ سروس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو گرفتار کر لیا۔ فوری سیکیورٹی ردعمل کے باعث ممکنہ بڑے سانحے کو ٹال دیا گیا تاہم واقعے نے امریکی دارالحکومت میں سیکیورٹی انتظامات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں ہفتے کی شب ایک نجی ہوٹل میں وائٹ ہاوس کے نمائندوں کی سالانہ تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے نے خوف و ہراس پھیلا دیا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس حملے میں محفوظ رہے۔حکام کے مطابق ایک مسلح شخص نے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر فائرنگ کی،جس کے نتیجے میں ایک خفیہ سروس ایجنٹ کو نشانہ بنایا گیا تاہم وہ حفاظتی جیکٹ کے باعث محفوظ رہا۔عینی شاہدین کے مطابق جیسے ہی فائرنگ کی آواز گونجی،تقریب میں موجود تقریباً 2600 مہمانوں میں بھگدڑ مچ گئی،لوگ چیختے ہوئے میزوں کے نیچے چھپ گئے جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر صورتحال کو کنٹرول میں لینے کے لیے سٹیج اور ہال کا کنٹرول سنبھال لیا۔سیکیورٹی ایجنٹس نے صدر کو جھک کر فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا۔واقعے کے وقت خاتونِ اول ملانیا ٹرمپ،نائب صدر جے ڈی وینس،وزیر خارجہ مارکو روبیو اور کابینہ کے دیگر اراکین بھی موجود تھے،جنہیں حفاظتی اقدامات کے تحت زمین پر لیٹنے کی ہدایت کی گئی۔ تمام اعلیٰ حکام اس واقعے میں محفوظ رہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور شاٹ گن سمیت متعدد ہتھیاروں سے لیس تھا اور اس نے تقریباً 50 گز کے فاصلے سے سیکیورٹی چیک پوائنٹ کو نشانہ بنایا۔خفیہ سروس کے اہلکاروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے ملزم کو قابو میں لے لیا۔بعد ازاں صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں خفیہ سروس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔وائٹ ہاوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے حملہ آور کو ”بیمار ذہن کا شخص“ قرار دیا اور کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق وہ اکیلا ہی اس کارروائی میں ملوث تھا۔انہوں نے کہا کہ ایسے خطرات صدارتی ذمہ داریوں کا حصہ ہیں تاہم ملک سے محبت انہیں اپنے فرائض کی ادائیگی پر قائم رکھتی ہے۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس واقعے سے متعلق معلومات ہوں تو فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی ٹیمیں حملہ آور کے پس منظر اور ممکنہ محرکات کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہیں۔قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے کہا ہے کہ ملزم کے خلاف جلد متعدد سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔ واشنگٹن کی میئر موریل باوزر نے تصدیق کی کہ زخمی ایجنٹ اور حملہ آور دونوں ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔صدر ٹرمپ نے اس واقعے کے تناظر میں وائٹ ہاوس میں ایک جدید اور محفوظ بال روم کی تعمیر کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کی تقریبات مکمل سیکیورٹی کے ساتھ منعقد کی جا سکیں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی 2024 میں مختلف مواقع پر حملوں کا سامنا کر چکے ہیں جبکہ اسی مقام پر 1981 میں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن پر بھی قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔صدر ٹرمپ نے واقعے کی ملک بھر میں ہونے والی مذمت پر سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے قومی یکجہتی پر زور دیا اور کہا کہ اختلافات کے باوجود ملک کے مفاد میں متحد رہنا ضروری ہے۔