واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاوس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کرنے والے حملہ آور کی شناخت سامنے آنے کے بعد تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے،ملزم کا تعلق ریاست کیلیفورنیا سے ہے جبکہ سیکیورٹی کیمروں کی سامنے آنے والی فوٹیج نے واقعے کے کئی اہم پہلووں کو واضح کر دیا ہے۔حکام کے مطابق بروقت کارروائی کے باعث ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا گیا اور ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاوس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی شناخت سامنے آ گئی ہے،جس کے بعد اس واقعے کی تحقیقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق 31 سالہ ملزم کول ٹامس ایلن کا تعلق ریاست کیلیفورنیا سے ہے اور وہ لاس اینجلس کے نواحی علاقے ٹورنس کا رہائشی بتایا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق ملزم کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ واشنگٹن کے ایک نجی ہوٹل کے بال روم کی جانب فائرنگ کرتے ہوئے تیزی سے بڑھ رہا تھا تاہم موقع پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری اور موثر کارروائی کرتے ہوئے اسے روک لیا اور کسی بڑے سانحے کو ٹال دیا۔اس دوران ایک خفیہ سروس اہلکار کو گولی لگی لیکن حفاظتی جیکٹ کے باعث وہ محفوظ رہا۔
واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل باوزر نے تازہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم اس وقت قریبی ہسپتال میں زیرِ علاج اور سخت سیکیورٹی میں رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق ملزم کو طبی امداد کے بعد باضابطہ طور پر جیل منتقل کر دیا جائے گا۔دوسری جانب قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی تیزی سے جاری ہے اور اس پر جلد فردِ جرم عائد کی جائے گی۔حکام کے مطابق اس کے خلاف فائرنگ،غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دیگر سنگین جرائم کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سوشل میڈیا پر ملزم کی تصویر اور سیکیورٹی کیمروں کی ابتدائی فوٹیج بھی جاری کر دی ہے،جس میں فائرنگ کے آغاز کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔صدر کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد عوام کو حقائق سے آگاہ رکھنا اور کسی بھی قسم کے ابہام کو دور کرنا ہے۔
تحقیقاتی ادارے اس وقت ملزم کے پس منظر، ممکنہ محرکات اور اس کے کسی تنظیم یا گروہ سے تعلق کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق تاحال اسے ایک انفرادی کارروائی تصور کیا جا رہا ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تمام پہلووں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات جاری رکھی جائیں گی۔یہ واقعہ نہ صرف سیکیورٹی نظام کی بروقت کارروائی کی مثال بن کر سامنے آیا ہے بلکہ اس نے اعلیٰ سطح تقریبات میں حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کر دیا ہے جبکہ آئندہ چند روز میں اس کیس میں مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔