پیرس(ایگزو نیوز ڈیسک)یوکرین کو روسی میزائل اور ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اتحادی ممالک کا اہم اجلاس آج پیرس میں منعقد ہو رہا ہے،جس میں یوکرین کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے،روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے اور مستقبل کی سکیورٹی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔
ایگزو نیوز کے مطابق اجلاس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سمیت کم از کم 25 ممالک کے رہنماوں اور نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ یہ ملاقات نیٹو سربراہی اجلاس کے چند روز بعد ہو رہی ہے، جس کا مقصد یوکرین کے لیے مغربی ممالک کی حمایت کو مزید منظم کرنا اور جنگ کے ممکنہ اختتام کے بعد سکیورٹی انتظامات کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں روس کی جانب سے کیف سمیت یوکرین کے مختلف علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یوکرین نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اتحادی ممالک سے اضافی مدد کا مطالبہ کیا ہے۔اجلاس میں امریکا کے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کے مزید انٹرسیپٹرز کی فراہمی، فرانس اور اٹلی کے مشترکہ فضائی دفاعی منصوبوں میں تیزی لانے اور یوکرین کے لیے یورپی تعاون سے نئے اینٹی بیلسٹک دفاعی پروگرام پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اتحادی ممالک روس پر نئی اقتصادی پابندیوں کے امکانات، روسی تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے مبینہ “شیڈو فلیٹ” کے خلاف اقدامات، دفاعی پیداوار میں تعاون بڑھانے اور یوکرین کو طویل المدتی سکیورٹی ضمانتیں دینے کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔یوکرینی حکام کا موقف ہے کہ روسی حملوں میں شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے تاہم ماسکو کا کہنا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں صرف دفاعی اور عسکری اہداف تک محدود ہیں۔واضح رہے کہ روس نے فروری 2022 میں یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی،جس کے بعد سے جاری جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک،لاکھوں بے گھر جبکہ خطے کی سلامتی کی صورتحال شدید متاثر ہو چکی ہے۔امریکا،نیٹو اور یورپی ممالک مسلسل یوکرین کو فوجی،مالی اور سفارتی معاونت فراہم کر رہے ہیں جبکہ روس مغربی امداد کو جنگ کے طول پکڑنے کی بنیادی وجہ قرار دیتا ہے۔