اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے حج کے دوران اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے لیے اصل مشکل عبادات نہیں بلکہ بعض مواقع پر سیلفیوں کی درخواستیں تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ حج کا سفر روحانی طور پر نہایت آسان اور اطمینان بخش رہا تاہم لوگوں کی جانب سے تصاویر لینے کی خواہش نے بعض لمحات میں انہیں تھکا دیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے حج کے دوران پیش آنے والے اپنے تجربات اور درپیش معمولی مشکلات سے متعلق دلچسپ اور جذباتی تفصیلات شیئر کی ہیں۔ انہوں نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس مقدس سفر پر اپنے ساتھ انسولین لے کر گئے تھے،جو مخصوص درجہ حرارت میں 24 گھنٹے تک موثر رہتی ہے اور اس حوالے سے انہیں ذیابیطس کے باوجود زیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔وسیم اکرم نے کہا کہ ان کے نزدیک حج ایک عبادتی سفر ہے جو ہر مسلمان کی زندگی میں ایک بار ضرور ہونا چاہیے اور ان کے لیے یہ تجربہ نہایت آسان اور روحانی طور پر اطمینان بخش رہا۔انہوں نے کہا کہ اصل چیلنج عبادات نہیں بلکہ بعض مواقع پر لوگوں کی جانب سے سیلفیوں کی درخواستیں تھیں،جنہوں نے انہیں زیادہ تھکا دیا۔
سابق کپتان نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ منیٰ میں نماز کی ادائیگی کے بعد اچانک متعدد افراد تصاویر لینے کے لیے ان کے گرد جمع ہو گئے،جس سے صورتحال کچھ مشکل ہو گئی تاہم انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر حج کا تجربہ انتہائی بہترین اور یادگار رہا اور انہوں نے اس موقع پر سب کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔واضح رہے کہ اس سال وسیم اکرم نے سابق کپتان مصباح الحق اور ٹی وی میزبان فخر عالم کے ہمراہ حج کی سعادت حاصل کی، جسے انہوں نے اپنی زندگی کا ایک روحانی اور ناقابلِ فراموش تجربہ قرار دیا۔