اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)عالمی سطح پر انتخابی شفافیت اور ڈیٹا کی درستگی کے تناظر میں پاکستان میں ووٹر فہرستوں کی حالیہ اپ ڈیٹ نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے،جہاں الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں لاکھوں ووٹرز کے نام خارج ہونے کے بعد رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔حکام کے مطابق اس عمل کی بنیادی وجہ وفات پانے والے ووٹرز کا اخراج اور نئے ووٹرز کی شمولیت ہے تاہم بڑی تعداد میں کمی نے انتخابی نظام کی شفافیت،ڈیٹا اپ ڈیٹ کے طریقہ کار اور عوامی نمائندگی کے پہلووں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں ووٹر فہرستوں کی تازہ اپ ڈیٹ جاری کرتے ہوئے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں نمایاں کمی کی تصدیق کر دی ہے۔جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 7 مئی سے 2 جولائی کے دوران مجموعی طور پر 5 لاکھ 89 ہزار 458 ووٹرز کی خالص کمی ریکارڈ کی گئی ہے،جس کے بعد ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 13 کروڑ 71 لاکھ سے کم ہو کر 13 کروڑ 65 لاکھ 74 ہزار 399 رہ گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق اس کمی کی بڑی وجہ وفات پانے والے ووٹرز کے ناموں کا اخراج ہے،جن کی تعداد 14 لاکھ 84 ہزار 382 بتائی گئی ہے۔اسی دوران 8 لاکھ 94 ہزار 924 نئے اہل ووٹرز کو انتخابی فہرستوں میں شامل کیا گیا،جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر ووٹرز کی تعداد میں کمی سامنے آئی۔صوبہ وار اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ 4 لاکھ 78 ہزار 909 ووٹرز کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ سندھ میں 97 ہزار 216 ووٹرز کم ہوئے۔مجموعی طور پر مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں بھی کمی دیکھی گئی،جس میں مرد ووٹرز کی تعداد زیادہ متاثر ہوئی۔
الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی تیاری اور اپ ڈیٹ نادرا کے مستند ڈیٹا کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔حکام کے مطابق ووٹرز کا اندراج قومی شناختی کارڈ سے منسلک ہونے کے باعث ڈپلیکیٹ ووٹ کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 25 کے تحت ووٹر لسٹوں کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے تاکہ انتخابی عمل کو شفاف اور قابل اعتماد بنایا جا سکے۔واضح رہے کہ ووٹر فہرستوں میں یہ رد و بدل انتخابی نظام کی درستگی اور شفافیت کے لیے ضروری عمل ہے تاہم بڑی تعداد میں ووٹرز کے اخراج نے سیاسی و عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔