نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے ساتھ ممکنہ عسکری تصادم کا عندیہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ اس معاملے میں کسی بھی آپشن کو خارج از امکان قرار نہیں دے رہا۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایک امریکی ٹی وی چینل کو ٹیلی فونک انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کے اطراف سمندری علاقوں میں تیل بردار جہازوں کے خلاف امریکی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے اس سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا یہ اقدامات خطے کو جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں تا ہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ایسا امکان موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا صورتحال کو بغور دیکھ رہا ہے اور آئندہ کا لائحہ عمل مکمل طور پر حالات پر منحصر ہوگا۔صدر ٹرمپ کے مطابق اگر وینزویلا کی قیادت نے اپنی موجودہ پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو امریکی بندرگاہوں اور سمندری راستوں پر مزید سخت ردِعمل سامنے آ سکتا ہے۔انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکہ اپنی پابندیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے وینزویلا کے مزید آئل ٹینکروں کو تحویل میں لینے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ حالیہ دنوں میں امریکہ وینزویلا سے آنے اور جانے والے تیل بردار جہازوں کی ناکہ بندی کے احکامات جاری کر چکا ہے،جس کے نتیجے میں صدر نکولس مادورو کی حکومت پر بین الاقوامی دباو میں نمایاں اضافہ ہوا۔اسی تناظر میں امریکہ نے وینزویلا کے قریب ایک آئل ٹینکر کو اپنی تحویل میں بھی لیا تھا۔امریکی صدر کے بیان کے پس منظر میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ستمبر سے اب تک بحرالکاہل میں امریکی کارروائیوں کے دوران 30 کشتیوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا،جن کے نتیجے میں 104 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ان واقعات نے نہ صرف امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات کو شدید کشیدگی سے دوچار کر دیا ہے بلکہ خطے میں ایک بڑے تصادم کے خدشات کو بھی تقویت دی ہے۔