واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکا نے ایران کو ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی مبینہ ترسیل روکنے کی کوششوں کے تحت ایران کے ایک اور روس کے دو اداروں پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں،جس سے تہران سے منسلک مبینہ دفاعی اور عسکری ترسیلی نیٹ ورک کے خلاف واشنگٹن کی کارروائیوں میں مزید شدت آگئی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئی پابندیوں کا ہدف ایران کی ساہا ایئرلائنز،روس کی طیارہ ساز کمپنی یاکوولیو اور روسی شپنگ کمپنی ایم جی فلوٹ ہیں۔امریکی حکام کا موقف ہے کہ مذکورہ ادارے ایران اور روس کے درمیان فوجی سازوسامان،طیاروں اور دیگر عسکری نوعیت کی اشیا کی منتقلی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق روسی طیارہ ساز کمپنی یاکوولیو نے ایران کو یاک۔130 جنگی تربیتی طیارے اور ان سے متعلقہ سامان فراہم کیا۔واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ طیارے ایران کی فوجی تربیت اور دفاعی صلاحیتوں کے لیے اہمیت رکھتے ہیں،اسی وجہ سے ان کی فراہمی سے متعلق ادارے کو نئی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
امریکی حکام نے روسی شپنگ کمپنی ایم جی فلوٹ پر بھی الزام عائد کیا ہے کہ اس کے زیر انتظام بحری جہاز ایران سے روس کو بیلسٹک میزائلوں کی منتقلی میں استعمال ہوئے۔امریکی موقف کے مطابق اس نوعیت کی سرگرمیاں ایران اور روس کے درمیان عسکری تعاون اور ہتھیاروں کی منتقلی کے ایسے سلسلے کا حصہ ہیں جسے واشنگٹن محدود کرنا چاہتا ہے۔دوسری جانب ایران کی ساہا ایئرلائنز کو بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ فضائی کمپنی ایران کے لیے ہتھیاروں اور ان سے متعلق فوجی سازوسامان کی منتقلی میں ملوث رہی ہے۔واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی ترسیلی سرگرمیوں نے ایرانی عسکری صلاحیتوں سے متعلق امریکی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئی پابندیاں ایران پر اقوام متحدہ کی بحال شدہ پابندیوں کی حمایت میں عائد کی گئی ہیں اور یہ وسیع تر امریکی کارروائی کا حصہ ہیں جس کا مقصد ایران کے ہتھیاروں کی فراہمی اور ترسیل کے نظام کو محدود کرنا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ان پابندیوں کے ذریعے ایران کے عسکری نیٹ ورک سے منسلک اداروں کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اور تجارتی سرگرمیوں کو مشکل بنانا مقصود ہے۔واشنگٹن کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا بنیادی ہدف ان ذرائع اور اداروں پر دباو بڑھانا ہے جو ایران کے لیے ہتھیار،فوجی سازوسامان یا متعلقہ خدمات کی فراہمی میں معاونت کرتے ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ نے اس کارروائی کو ”آپریشن اکنامک آوٹ کاسٹ“ کا حصہ قرار دیا ہے،جس کے تحت ایران کی عسکری اور دفاعی سرگرمیوں سے منسلک مالی،تجارتی اور ترسیلی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔نئی پابندیاں ایسے وقت میں عائد کی گئی ہیں جب ایران اور روس کے درمیان دفاعی اور عسکری تعاون کے حوالے سے امریکی تشویش میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔واشنگٹن طویل عرصے سے تہران اور ماسکو کے درمیان فوجی تعاون، ہتھیاروں کی منتقلی اور دفاعی سازوسامان کی فراہمی پر اعتراض کرتا رہا ہے اور مختلف مواقع پر دونوں ممالک سے منسلک اداروں اور افراد کے خلاف پابندیاں عائد کرچکا ہے۔امریکی اقدام سے متاثر ہونے والے اداروں پر عائد پابندیوں کے نتیجے میں ان کے امریکی مالیاتی نظام تک رسائی اور امریکا سے متعلقہ مالی و تجارتی معاملات پر سخت پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں۔اس طرح واشنگٹن کا مقصد مذکورہ اداروں کے لیے عالمی سطح پر کاروباری اور مالیاتی سرگرمیوں کے دائرے کو محدود کرنا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ ایران کے ہتھیاروں کی ترسیل کے نیٹ ورک سے وابستہ اداروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو تہران کو فوجی سازوسامان اور متعلقہ وسائل کی فراہمی میں معاونت کرتے ہیں۔
تازہ امریکی پابندیوں سے ایک طرف ایران کی ساہا ایئرلائنز متاثر ہوئی ہے تو دوسری جانب روس کی طیارہ سازی اور بحری نقل و حمل سے وابستہ دو ادارے بھی کارروائی کی زد میں آئے ہیں۔اس طرح واشنگٹن نے ایران تک محدود رہنے کے بجائے ان بیرونی اداروں کو بھی نشانہ بنایا ہے جن کے بارے میں امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ تہران کے عسکری ترسیلی نظام میں معاون کردار ادا کررہے ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئی کارروائی کا مرکزی مقصد ایران کے ہتھیاروں کی فراہمی کے ذرائع کو محدود کرنا، متعلقہ اداروں پر مالی دباو بڑھانا اور ایران سے منسلک عسکری ترسیلی نیٹ ورک کو عالمی سطح پر مشکلات سے دوچار کرنا ہے تاہم ان پابندیوں کے عملی اثرات اور ایران و روس کی جانب سے ممکنہ ردعمل آئندہ سامنے آنے والے اقدامات سے واضح ہوں گے۔