نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی اور سفارتی تعلقات میں نیا موڑ آگیا ہے، واشنگٹن نے نئی دہلی کو ایرانی چاہ بہار بندرگاہ سے متعلق دی گئی چھوٹ واپس لے لی ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف خطے کی جغرافیائی سیاست پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں بڑھتے تناو کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباو ڈالنے کی پالیسی کے تحت یہ چھوٹ ختم کر دی گئی ہے، جس کے بعد چاہ بہار بندرگاہ کو آپریٹ کرنے والے افراد یا اداروں پر براہِ راست پابندیاں عائد کی جائیں گی، فیصلہ 29 ستمبر 2025 سے موثر ہوگا۔ماہرین کے مطابق یہ اقدام بھارت کے لیے شدید معاشی اور تزویراتی مشکلات پیدا کر سکتا ہے کیونکہ نئی دہلی اس بندرگاہ کو وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر دیکھتا ہے۔دوسری جانب نئی دہلی میں امریکہ اور بھارت کے درمیان ہونے والے اہم تجارتی مذاکرات بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔امریکی وفد کی قیادت برینڈن لنچ جبکہ بھارتی وفد کی سربراہی راجیش اگروال نے کی،اگرچہ دونوں ممالک نے مستقبل میں مزید ملاقاتوں پر اتفاق کیا لیکن بڑے مسائل بدستور جوں کے توں ہیں۔
بھارتی وزیر تجارت سنیل برتھوال نے میڈیا سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ امریکہ کے ساتھ کئی سطحوں پر بات چیت جاری ہے تاہم روس سے تیل کی خریداری پر اختلافات برقرار ہیں اور واشنگٹن اس معاملے پر بھارت پر دباو ڈال رہا ہے۔ان کے بقول امریکہ زرعی مصنوعات،دودھ اور گندم پر عائد بلند ٹیکسز کم کرانے کا خواہاں ہے تا کہ تجارتی ڈیل میں پیش رفت ہو سکے۔اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اُن کی 75 ویں سالگرہ پر فون کرکے مبارکباد دی، جون 2025 کے بعد دونوں رہنماوں کے درمیان یہ پہلا براہِ راست رابطہ تھا جس نے سفارتی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا یہ قدم تعلقات میں سرد مہری کو کم کرنے کی کوشش ہے یا محض رسمی رابطہ۔مبصرین کا کہنا ہے کہ چاہ بہار پر امریکی پابندی اور تجارتی اختلافات مستقبل قریب میں امریکا بھارت تعلقات کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔