واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے،جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدہ نہ ماننے کی صورت میں تباہ کن فوجی کارروائی کی جائے گی۔اس بیان کے بعد خطے میں بے چینی مزید بڑھ گئی ہے جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت پیغام دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر تہران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کیں تو اس کے خلاف فوجی کارروائیاں پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ دوبارہ شروع کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس اب بھی موقع موجود ہے کہ وہ معاہدہ قبول کر کے خطے میں جاری کشیدگی کا خاتمہ ممکن بنائے۔سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے شرائط مان لینے کی صورت میں جاری فوجی آپریشن فوری طور پر روک دیا جائے گا اور آبنائے ہرمز کو تمام ممالک کے لیے کھول دیا جائے گا،جس سے نہ صرف خطے میں استحکام آئے گا بلکہ عالمی تجارتی سرگرمیوں کو بھی تقویت ملے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے ان شرائط کو مسترد کیا تو امریکا کی جانب سے حملے نہ صرف دوبارہ شروع ہوں گے بلکہ ان کی شدت اور دائرہ کار میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔ان کے بقول یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے اور ایران کو ذمہ دارانہ فیصلہ کرنا ہوگا۔امریکی حکام کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی ہے جبکہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل بھی دباو کا شکار رہی ہے۔اسی تناظر میں امریکا نے اپنے دفاعی اقدامات کو وقتی طور پر محدود کرتے ہوئے مذاکرات کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔دوسری جانب سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک ممکنہ معاہدے پر پیشرفت جاری ہے،جس کے تحت جنگ بندی، محدود مدت کے لیے عبوری انتظامات اور جوہری پروگرام سمیت اہم نکات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق ایک جامع منصوبہ زیر غور ہے،جس میں مرحلہ وار پابندیوں کے خاتمے اور بحری ناکہ بندی میں نرمی جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں تاہم امریکی قیادت نے واضح کیا ہے کہ جب تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا،ایران کے خلاف دباو برقرار رکھا جائے گا۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کی سٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر اس کشیدگی کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں اور آنے والے دن اس تنازع کے رخ کا تعین کریں گے۔