Home » میزائل حملوں کے بعد ٹرمپ نے ایران کو جوابی حملوں کی دھمکی دے دی،امریکا ایران تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا

میزائل حملوں کے بعد ٹرمپ نے ایران کو جوابی حملوں کی دھمکی دے دی،امریکا ایران تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا

by ahmedportugal
18 views
A+A-
Reset

واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر مبینہ ایرانی میزائل حملوں کے بعد ایران کو سخت جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن تہران کے خلاف مزید کارروائیوں کا جائزہ لے رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے امریکی مفادات اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے خلاف بھی ممکنہ اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اردن میں امریکی فوجی اڈے اور امریکی سینٹرل کمانڈ(سینٹ کام) کے مرکز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق یہ کارروائی خطے میں ایران مخالف امریکی اقدامات کے جواب میں کی گئی جبکہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں وارننگ کو نظر انداز کرنے والے بعض آئل ٹینکروں کو روکنے کا بھی دعویٰ کیا۔دوسری جانب امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے گئے، تاہم امریکی دفاعی نظام نے انہیں کامیابی سے روک لیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی افواج ہائی الرٹ ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اردن کی فضاوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،جہاں میزائل دفاعی نظام نے مبینہ ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا۔اردن حکام کی جانب سے بھی صورتحال کی نگرانی جاری رکھنے کا کہا گیا ہے۔دوسری جانب کویت کی وزارتی کونسل نے ایران کی جانب سے خطے میں ہونے والی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں علاقائی امن و استحکام کیلئے خطرناک قرار دیا ہے۔ادھر ایران نے سعودی عرب میں حالیہ میزائل حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے داغے گئے میزائلوں یا راکٹوں سے تہران کا کوئی تعلق نہیں۔علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب امریکا اور سعودی عرب نے عراق میں ایران نواز گروہوں کے خلاف مشترکہ فضائی کارروائیوں کا دعویٰ کیا۔

عراقی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔عراقی حکومت نے ان کارروائیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے انہیں ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔عراقی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل بغداد کی اجازت ضروری ہے اور یکطرفہ حملے بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں۔ایران کی وزارت خارجہ نے بھی عراق میں امریکی اور سعودی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں جارحیت قرار دیا ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر بڑے تصادم کے خدشات پیدا کر دیے ہیں جبکہ عالمی برادری دونوں ممالک پر تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دے رہی ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز