Home » آبنائے ہرمز بحران پر بریک تھرو کی کوششیں،ایران امریکا مذاکرات دوبارہ اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان

آبنائے ہرمز بحران پر بریک تھرو کی کوششیں،ایران امریکا مذاکرات دوبارہ اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان

by ahmedportugal
14 views
A+A-
Reset

نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی بریک تھرو کی نئی کوششیں سامنے آئی ہیں، جن کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں تناو میں کمی اور ممکنہ جنگی صورتحال کو ٹالنے کی ایک اہم کوشش قرار دی جا رہی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی بریک تھرو کی نئی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، جن کے تحت دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر اسلام آباد میں شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات آئندہ ہفتے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں،جن میں اسلام آباد کو ممکنہ میزبان یا ثالثی مرکز کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک ثالثوں کے ذریعے ایک ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی مفاہمتی مسودہ تیار کر رہے ہیں،جس کا مقصد ابتدائی طور پر ایک ماہ پر محیط مذاکراتی عمل کو شروع کرنا ہے۔اس عمل کا بنیادی ہدف خطے میں کشیدگی میں کمی اور ممکنہ جنگی صورتحال سے بچاو قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ فریم ورک میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امور، آبنائے ہرمز میں بحری سیکیورٹی، اور ایران کے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایران بعض شرائط کے ساتھ اپنی جوہری سرگرمیوں میں نرمی اور یورینیم افزودگی پر محدود لچک دکھانے پر غور کر رہا ہے جبکہ امریکا کا موقف ہے کہ تہران اپنی افزودگی کی سطح کو کم کرے۔دوسری جانب ایران کی جانب سے پابندیوں میں نمایاں نرمی اور معاشی ریلیف کا مطالبہ بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق پابندیوں میں نرمی کی حد دونوں فریقوں کے درمیان سب سے بڑا اختلافی نکتہ بنی ہوئی ہے،جو کسی بھی حتمی پیش رفت میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اگر ابتدائی مذاکرات میں پیش رفت حاصل ہو گئی تو ایک ماہ کی مدت کو باہمی رضامندی سے مزید بڑھایا بھی جا سکتا ہے تاکہ جامع معاہدے کی طرف پیش رفت ممکن ہو سکے۔واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا،جس کے جواب میں ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کی تھیں۔اس دوران آبنائے ہرمز میں عالمی تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی اور عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا ہو گئی تھی۔بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستانی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی عمل میں آئی تھی تاہم 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے ابتدائی مذاکرات کسی مستقل نتیجے تک نہیں پہنچ سکے تھے۔بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا تاہم اس کی کوئی واضح مدت مقرر نہیں کی گئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق 13 اپریل سے امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے بحری نگرانی اور ناکہ بندی کے اقدامات بھی جاری رکھے ہوئے ہیں،جس سے خطے کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔واضح رہے کہ اگر اسلام آباد میں مذاکرات کا نیا دور شروع ہوتا ہے تو یہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز