واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکا اور ایران کے درمیان مبینہ مفاہمت پر پیش رفت سامنے آئی ہے،غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی معاہدے میں 60 روزہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور پابندیوں میں نرمی جیسے نکات شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو متوقع ہیں جبکہ اس سے قبل جنیوا میں ہونے والے جی سیون اجلاس کے موقع پر باضابطہ پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ابتدائی فریم ورک پر اتفاق ہو چکا ہے جس کے تحت جنگ بندی تمام محاذوں پر ہوگی تاہم پابندیوں میں نرمی ایران کے عملی اقدامات سے مشروط رکھی گئی ہے۔دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق معاہدے کے مسودے میں امریکی فوجیوں کے انخلا، تیل پر پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے نکات بھی شامل ہیں، تاہم ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کے میزائل پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ادھر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ معاہدے کی دستاویزات آخری مرحلے میں ہیں اور جلد دستخط متوقع ہیں، تاہم ایران کی جانب سے اس کی جزوی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور سفارتی رابطے جاری ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق بعض نکات پر پیش رفت ضرور ہوئی ہے مگر کوئی جامع سمجھوتہ طے نہیں پایا اور ایران اپنی ریڈ لائنز پر قائم ہے۔
امریکا ایران خفیہ ڈیل کا دھماکہ خیز انکشاف،بڑی مفاہمت کا دعویٰ، جنگ بندی،پابندیوں میں نرمی اور ہرمز کھلنے کا امکان
18