نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکا نے ایران کے مبینہ مالی نیٹ ورکس کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے عراقی نائب وزیر تیل سمیت متعدد اہم شخصیات اور اداروں پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔واشنگٹن کے اس اقدام کو ایران کے علاقائی اثر و رسوخ اور مالی وسائل کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے،جس کے بعد خطے میں سیاسی و معاشی تناو مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف دباو بڑھاتے ہوئے ایک بار پھر سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے،جس کے تحت ایران سے مبینہ طور پر منسلک نیٹ ورکس، افراد اور کمپنیوں کو پابندیوں کی زد میں لایا گیا ہے۔اس کارروائی میں عراق کے نائب وزیر تیل سمیت اہم شخصیات کو بھی شامل کیا گیا ہے،جس سے خطے میں سیاسی اور معاشی تناو میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ نیٹ ورکس عراق کے تیل کے شعبے کو استعمال کرتے ہوئے ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کو مالی فائدہ پہنچا رہے تھے۔الزام عائد کیا گیا ہے کہ بعض سرکاری عہدیداروں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے تیل کی ترسیل اور مالی معاملات میں ایسی سرگرمیوں کو ممکن بنایا جو امریکی مفادات اور اتحادیوں کے خلاف استعمال ہو سکتی تھیں۔پابندیوں کی اس نئی لہر میں متعدد عراقی شخصیات اور کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے،جن پر ایران کے لیے مالی وسائل کی فراہمی اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔
امریکی موقف کے مطابق یہ اقدامات ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد ایران کو مالی طور پر محدود کرنا اور اس کے علاقائی نیٹ ورکس کو کمزور کرنا ہے۔امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ایران پر معاشی دباو برقرار رکھا جائے گا اور ایسے تمام ذرائع کو بند کیا جائے گا جن کے ذریعے وہ اپنے اتحادی گروہوں کو مالی مدد فراہم کرتا ہے۔ اس تناظر میں عراق میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو بھی ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے،جس کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔واضح رہے کہ ان پابندیوں سے نہ صرف ایران بلکہ خطے کی معیشت اور سیاسی صورتحال پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جبکہ عراق جیسے ممالک کے لیے بھی یہ ایک نیا امتحان ثابت ہو سکتا ہے جہاں اندرونی اور بیرونی دباو میں توازن قائم رکھنا ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔