نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکہ نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین پر تشدد کے الزام میں پانچ اعلیٰ ایرانی حکام پر پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے پابندیوں میں علی لاریجانی سمیت دیگر اہم رہنماوں کو شامل کیا ہے اور ان کے عالمی بینکوں میں موجود اثاثوں اور مالی لین دین کی سخت نگرانی کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایرانی رہنما اپنی کارروائیوں میں احتیاط کریں اور عوام کے حقوق کا احترام کریں، ورنہ ان کے اثاثوں اور بین الاقوامی مالیاتی روابط کی نگرانی جاری رہے گی۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکہ نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین پر تشدد کے الزام میں پانچ ایرانی شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندی کا نشانہ بننے والے حکام میں سپریم کونسل برائے نیشنل سیکیورٹی کے سیکریٹری علی لاریجانی،اسلامی انقلابی گارڈ کور اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چار کمانڈرز شامل ہیں۔محکمہ خزانہ نے واضح کیا کہ وہ ان ایرانی رہنماوں کی عالمی بینکوں میں منتقل ہونے والی رقوم پر نظر رکھے ہوئے ہے،جو مظاہروں کے دوران عوام سے لوٹی گئی۔ امریکی سیکریٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران کے رہنما اپنی کارروائیوں سے باز آئیں اور عوام کے ساتھ کھڑے ہوں ورنہ ان کے اثاثے اور مالیاتی لین دین کی نگرانی جاری رہے گی۔مزید 18 افراد اور ادارے بھی پابندیوں کی زد میں آئے ہیں جو ایران کی شیڈو بینکنگ نیٹ ورک کے ذریعے تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی آمدنی کی غیر قانونی منتقلی میں ملوث تھے۔ان میں متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور سنگاپور میں قائم فرنٹ کمپنیاں بھی شامل ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ امریکا ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار عناصر کو نشانہ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور ایرانی عوام کی آزادی اور انصاف کے لیے مکمل حمایت جاری رکھے گا۔یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر دباو بڑھانے کی حکمت عملی کے بعد پہلا عمل ہے، جس کا مقصد ایران میں مظاہرین کے حقوق کی حفاظت اور بین الاقوامی مالیاتی شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
امریکہ کی ایران پر کریک ڈاؤن کے الزام میں سخت پابندیاں،علی لاریجانی سمیت 5 اہم حکام کی مالی اور سفارتی نگرانی شروع
2