واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکہ نے اچانک فیصلہ کرتے ہوئے 19 غیر یورپی ممالک کے شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستیں معطل کر دی ہیں، جس کے بعد متاثرہ ممالک کے ہزاروں شہری،جو گرین کارڈ یا امریکی شہریت کے حصول کے قریب تھے غیر یقینی مستقبل سے دوچار ہو گئے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام واشنگٹن ڈی سی میں افغان نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے واقعے کے بعد سیکیورٹی خدشات بڑھنے پر اٹھایا گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی ادارے یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے واضح کیا ہے کہ جن ممالک کے شہری اس پابندی کی زد میں آئے ہیں ان میں افغانستان،ایران،لیبیا،میانمار،صومالیہ،سوڈان،ترکمانستان،یمن سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔ان ممالک کے شہریوں کی طرف سے جمع تمام امیگریشن کیسزچاہے وہ ابتدائی مرحلے میں ہوں یا حتمی منظوری کے قریب،فی الحال موخر کر دیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف نئے درخواست گزار متاثر ہوں گے بلکہ وہ امیدوار بھی اس عمل کا حصہ ہیں جن کے امریکی شہریت کے حتمی انٹرویوز تک مکمل ہو چکے تھے۔
نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق انہی ممالک پر کیا گیا ہے جن کے شہریوں پر جون میں سٹیٹس حاصل کرنے کی جزوی پابندی لگائی گئی تھی۔ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عالمی سیکیورٹی ماحول اور داخلی خطرات میں اضافے کے پیش نظر امیگریشن پالیسیوں کی ازسرنو جانچ ناگزیر ہو چکی ہے تا ہم انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں اور امیگریشن ماہرین نے اس فیصلے کو غیر متوازن اور ہزاروں خاندانوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔امیگریشن ماہرین کے مطابق پابندی کے باعث متاثرہ شہریوں کے کیسز نہ تو آگے بڑھیں گے اور نہ ہی انہیں مسترد کیا جائے گا،جس سے ان کا قانونی سٹیٹس غیر واضح رہے گا۔اس اچانک اقدام نے کئی ممالک کے شہریوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے جبکہ قانونی مشیروں نے صورتحال کو سیکورٹی کے نام پر امیگریشن سختیوں کا نیا دور قرار دیا ہے۔