Home » ایران کے جوہری ذخائر پر امریکی نظریں،خفیہ فوجی آپریشن کا چونکا دینے والا منصوبہ بے نقاب

ایران کے جوہری ذخائر پر امریکی نظریں،خفیہ فوجی آپریشن کا چونکا دینے والا منصوبہ بے نقاب

by ahmedportugal
25 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ایک امریکی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو امریکا ایران کی محفوظ جوہری تنصیبات میں موجود غنی شدہ یورینیم پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک بڑے اور غیر معمولی فوجی آپریشن پر غور کر سکتا ہے،جسے عسکری ماہرین دنیا کے پیچیدہ ترین مشنز میں شمار کر رہے ہیں۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق دفاعی اور سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز اس ممکنہ کارروائی کے مختلف پہلووں کا جائزہ لے رہی ہیں۔ منصوبے کے تحت ایران کے اندر واقع سخت حفاظتی حصار میں موجود جوہری مواد تک رسائی حاصل کر کے اسے ملک سے باہر منتقل کرنے کی حکمت عملی زیر غور ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس نوعیت کے آپریشن کے لیے نہ صرف وسیع پیمانے پر لاجسٹک تیاری درکار ہو گی بلکہ ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی، تنصیبات کے گرد سیکیورٹی کنٹرول،بارودی رکاوٹوں کا خاتمہ اور محفوظ راہداریوں کا قیام بھی ناگزیر ہوگا۔ اس کے بعد سپیشل فورسز کی محدود ٹیمیں حساس جوہری مواد کو سنبھالنے اور منتقل کرنے کی ذمہ داری ادا کریں گی۔

سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز سے وابستہ ماہر جوزف راجرز کے مطابق ایران کے جوہری مواد کے مسئلے کا فوجی حل بعض حالات میں موثر ثابت ہو سکتا ہے،خاص طور پر جب سفارتی پیش رفت سست روی کا شکار ہو تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کا کوئی بھی آپریشن غیر معمولی خطرات سے بھرپور ہوگا۔رپورٹ کے مطابق ممکنہ کارروائی میں امریکی نیوی سیلز کی ایلیٹ یونٹ، رینجرز کی مخصوص بٹالین اور خطرناک مواد سے نمٹنے والی خصوصی ٹیمیں شامل ہو سکتی ہیں،جو غنی شدہ یورینیم کو محفوظ طریقے سے ہینڈل کرنے اور منتقل کرنے کی مہارت رکھتی ہیں۔بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے تخمینے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کے پاس بڑی مقدار میں غنی شدہ یورینیم موجود ہے،جس کے باعث اس مسئلے کی حساسیت اور عالمی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس آپریشن کی کامیابی کا دارومدار نہ صرف درست انٹیلی جنس معلومات پر ہوگا بلکہ امریکی افواج کی اس صلاحیت پر بھی ہو گا کہ وہ ایرانی جوابی کارروائیوں کے خطرے کے باوجود اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکیں اور محفوظ انخلا کو یقینی بنا سکیں۔سابق امریکی قومی سلامتی اہلکار رچرڈ گولڈ برگ کے مطابق ایران نے اپنی جوہری تنصیبات،خصوصاً اصفہان کے گرد دفاعی اقدامات مزید مضبوط کر دیے ہیں، جن میں اضافی فورسز کی تعیناتی اور ممکنہ بارودی رکاوٹیں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اچانک کارروائی کا عنصر محدود ہو چکا ہے کیونکہ دونوں فریق ایک دوسرے کی اہم تنصیبات سے بخوبی آگاہ ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی اشارہ دیا گیا کہ ایران نے ممکنہ دراندازی کو روکنے کے لیے بعض زیرِ زمین راستوں اور سرنگوں میں دھماکہ خیز مواد نصب کر رکھا ہے، جبکہ نطنز کے قریب واقع ایک اور مقام کو بھی حساس ہدف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع یا وائٹ ہاوس کی جانب سے اس نوعیت کے کسی عملی منصوبے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، جس کے باعث اسے تاحال ایک ممکنہ اور غیر مصدقہ عسکری آپشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز