کیلیفورنیا(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران کے معاملے پر امریکی سیاست کے اندر دراڑیں واضح ہونے لگی ہیں،جہاں ایک جانب وفاقی قیادت سخت موقف اپنائے ہوئے ہے تو دوسری جانب بااثر ریاستی رہنما کھل کر مخالفت میں سامنے آ رہے ہیں۔کیلیفورنیا کے گورنر کی جانب سے ایران جنگ کو ”بے مقصد“ قرار دے کر اسے فوری ختم کرنے کا مطالبہ اس بڑھتے ہوئے اختلاف کا واضح اظہار ہے،جس نے نہ صرف سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے بلکہ امریکا کی خارجہ پالیسی پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے اسے “بے مقصد جنگ” قرار دیا ہے اور فوری طور پر اس کشیدگی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ گورنر نیوسم نے نہ صرف ایران کے ساتھ جاری تناو کو غیر ضروری قرار دیا بلکہ امریکا میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار بھی براہِ راست صدر ٹرمپ کو ٹھہرایا۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی دباو اور عوامی مشکلات دراصل حکومتی فیصلوں کا نتیجہ ہیں،جنہوں نے عام شہری کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینیٹر ٹیمی بالڈون،جنہوں نے صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کے لیے قرارداد پیش کی ہے،نے بھی اس معاملے پر سخت موقف اختیار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ جنگی پالیسیوں سے نہ تو کوئی ٹھوس کامیابی حاصل ہوئی اور نہ ہی عوام کو کوئی ریلیف ملا بلکہ اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ اور خاندانوں کی جدائی جیسے سنگین مسائل سامنے آئے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران کے معاملے پر امریکی قیادت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خارجہ پالیسی اب اندرونی سیاسی کشمکش کا بھی مرکز بنتی جا رہی ہے۔ایک جانب حکومت سخت موقف اپنائے ہوئے ہے تو دوسری جانب بااثر سیاسی شخصیات اس حکمت عملی کو ملکی مفادات کے خلاف قرار دے رہی ہیں۔یہ صورتحال نہ صرف امریکا کے اندرونی سیاسی منظرنامے کو متاثر کر رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں،جہاں ایران کے ساتھ کشیدگی پہلے ہی خطے کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔