نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکہ نے مصر، لبنان اور اردن میں سرگرم اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے اور اس اقدام کے تحت اس تنظیم کے ارکان کو امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مصر، لبنان اور اردن میں سرگرم اسلامی تنظیم”اخوان المسلمین “کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے،جس سے امریکہ کی اسرائیل مخالف گروپوں کے خلاف عالمی سطح پر کریک ڈاون میں شدت آ گئی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے اعلان کے مطابق، یہ فیصلہ صدر کے حکم نامے کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا،جس میں ان کے اداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اخوان المسلمین کو بلیک لسٹ کرنے کے عمل کا آغاز کریں۔امریکی محکمہ خزانہ نے اردن اور مصر میں موجود اخوان المسلمین کی شاخوں کوخصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد قرار دیا جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے لبنانی شاخ کو زیادہ سخت درجہ دیا اور اسے”فارن ٹیررسٹ آرگنائزیشن(ایف ٹی او)یعنی غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔امریکی انتظامیہ نے اخوان المسلمین پر فلسطینی گروپ حماس کی حمایت اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔امریکی محکمہ خزانہ نے بیان میں کہا کہ”اخوان المسلمین“کی شاخیں بظاہر قانونی سماجی تنظیموں کے طور پر کام کرتی ہیں مگر پردہ کے پیچھے وہ کھل کر اور جوش و خروش کے ساتھ حماس جیسے دہشت گرد گروپوں کی حمایت کرتی ہیں۔
مصر کے محکمہ خارجہ نے امریکی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مصر میں اخوان المسلمین کی شاخ کو عالمی دہشت گرد قرار دینا مثبت قدم ہے۔ایف ٹی او کی درجہ بندی کے تحت اس گروپ کے ارکان کے لیے امریکہ میں داخلہ بھی ممنوع ہے۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس فیصلے کو اخوان المسلمین کی تشدد، غیر مستحکم کوششوں کو ناکام بنانے کے مقصد کے تحت ضروری قرار دیا اورکہا کہ امریکہ اخوان المسلمین کے مالی وسائل کو روکنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرے گا تا کہ تنظیم کی کارروائیوں کو محدود کیا جا سکے۔امریکی میڈیا کے مطابق اس اقدام کے بعد اخوان المسلمین کو دی جانے والی مالی معاونت امریکہ میں غیر قانونی قرار دی جائے گی،امریکہ نے واضح کیا کہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت موقف اختیار کیا جائے گا تا کہ عالمی سطح پر ان کی فعالیت محدود ہو سکے۔واضح رہے کہ اخوان المسلمین کی بنیاد 1928 میں مصری عالم حسن البنّا شہید نے رکھی تھی اور اس کے مختلف شاخیں اور ذیلی تنظیمیں مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں، جن میں سیاسی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں شامل ہیں۔