سنگاپور(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان اور امریکا کے درمیان سفارتی اور سیکیورٹی سطح پر تعلقات میں بہتری کے اشارے سامنے آئے ہیں،جہاں امریکی وزیر جنگ نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو تسلیم کیا ہے بلکہ خطے میں امن کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو بھی سراہا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی ایشیا میں جیو پولیٹیکل صورتحال اور سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے،جسے ماہرین ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں نمایاں بہتری کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حقیقی دوستی پروان چڑھ رہی ہے اور تعلقات ایک نئے اور مثبت مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔انہوں نے خطے میں امن کے فروغ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں پر پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔سنگاپور میں منعقدہ اہم سیکیورٹی سمٹ شنگریلا ڈائیلاگ کے دوران خطاب کے بعد سوال و جواب کے سیشن میں پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون غیر معمولی اور خوش آئند تبدیلی ہے،جس نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو نئی سمت دی ہے۔انہوں نے خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کے خاتمے اور امن مذاکرات کی پیش رفت میں پاکستان نے اہم اور موثر کردار ادا کیا۔ان کے مطابق یہ اقدامات خطے میں استحکام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوئے ہیں۔
امریکی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں یہ مثبت پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ برس بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران امریکی ثالثی کوششوں کو قبول کیا جانا بھی ایک اہم پیش رفت تھی،جو باہمی اعتماد کی علامت ہے۔ان کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں سفارتی روابط ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں،جہاں تعاون اور مکالمہ تنازعات پر غالب آ رہے ہیں۔خطے میں سلامتی اور سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں ان بیانات کو اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ ماہرین کے مطابق پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں بہتری عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔