Home » امریکا کا سعودی مدد سے گریز،حوثی قیادت سے مسقط میں براہِ راست ملاقات کا انکشاف

امریکا کا سعودی مدد سے گریز،حوثی قیادت سے مسقط میں براہِ راست ملاقات کا انکشاف

by ahmedportugal
29 views
A+A-
Reset

دبئی(ایگزو نیوز ڈیسک)یمن میں حوثی گروپ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی پیش قدمی اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اس کے اثر و رسوخ میں اضافے کے دوران امریکی حکام اور حوثی نمائندوں کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں براہِ راست ملاقات کا انکشاف ہوا ہے جبکہ امریکا نے سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے براہِ راست فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے فی الحال گریز کیا ہے۔امریکی حکام اور حوثی قیادت کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات خطے میں جاری کشیدگی اور واشنگٹن کی علاقائی حکمت عملی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر مسقط میں امریکی سفارت خانے میں حوثی رہنماوں سے ملاقات کی۔ رپورٹ کے مطابق بات چیت میں حوثی نمائندوں نے یقین دہانی کرائی کہ امریکا اور حوثیوں کے درمیان مئی 2025 میں طے پانے والی جنگ بندی بدستور برقرار ہے اور حوثیوں کا بحیرہ احمر میں امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں۔رپورٹ کے مطابق حوثی فریق نے امریکی حکام کو یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ بحیرہ احمر میں اس کی کارروائیوں کا دائرہ سعودی عرب سے منسلک یا سعودی تیل لے جانے والے بحری جہازوں تک محدود رہے گا۔حوثیوں کی جانب سے اس موقف کی وجہ سعودی عرب کی طرف سے یمن پر عائد مبینہ ناکہ بندی اور جاری فوجی کارروائیوں کو قرار دیا گیا ہے تاہم ان دعووں اور حوثیوں کے بیان کردہ اہداف کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے کی تصدیق کی ہے۔اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن نے ایک طرف حوثی گروپ کے خلاف سخت پالیسی برقرار رکھنے کے باوجود دوسری طرف کشیدگی کو محدود رکھنے اور بحیرہ احمر میں امریکی بحری مفادات کو محفوظ رکھنے کے لیے رابطے کا ایک راستہ برقرار رکھا ہوا ہے۔دوسری جانب یمن کے مغربی ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی نے سعودی عرب کے لیے سکیورٹی خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔حوثی فورسز نے بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ اہم علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا ہے اور باب المندب کے قریب ان کی موجودگی نے خطے کی اہم بحری گزرگاہ کے مستقبل کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کردی ہے۔

رائٹرز کے مطابق حالیہ پیش قدمی نے سعودی عرب کے لیے حوثیوں سے نمٹنے کے اختیارات کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کی پیش قدمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بحیرہ احمر اور باب المندب کے ذریعے عالمی بحری آمدورفت کے لیے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی ہے تاہم واشنگٹن نے اب تک سعودی عرب کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف براہِ راست فضائی یا زمینی فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا۔اس سے قبل سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حوثیوں کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکی فوجی مدد طلب کی تھی تاہم امریکی صدر نے براہِ راست حملوں کی منظوری نہیں دی۔امریکا کا یہ محتاط رویہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن پہلے ہی ایران کے ساتھ جاری جنگ میں فوجی وسائل اور توجہ صرف کر رہا ہے۔ ایران حوثی گروپ کا اہم علاقائی حامی سمجھا جاتا ہے،جس کے باعث یمن میں کسی نئی براہِ راست امریکی فوجی مداخلت سے واشنگٹن کے لیے خطے میں ایک اور محاذ کھلنے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکام اور حوثیوں کے درمیان مسقط میں ہونے والی ملاقات میں بنیادی توجہ جنگ بندی برقرار رکھنے اور بحیرہ احمر میں امریکی جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی پر رہی۔ اس سے قبل امریکا اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی تھی جب بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حوثی حملوں کے جواب میں امریکی فوج نے یمن میں حوثی اہداف کے خلاف کارروائیاں کی تھیں۔بعد ازاں دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی طے پائی تھی۔یمن کے موجودہ بحران میں سعودی عرب کے لیے سب سے اہم خدشات میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب حوثیوں کا بڑھتا ہوا کنٹرول شامل ہے۔باب المندب عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے اور اس کے قریب کسی بھی مسلح گروپ کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ بین الاقوامی بحری آمدورفت اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرات پیدا کرسکتا ہے۔حالیہ کشیدگی کے اثرات سعودی عرب کی توانائی کی تنصیبات اور تیل کی ترسیل تک بھی پہنچ چکے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ سے خام تیل کی ترسیل متاثر ہوئی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔اسی دوران سعودی عرب نے حوثیوں پر مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون بھیجنے کا الزام بھی عائد کیا،جسے سعودی فضائی دفاع نے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ سعودی حکام نے واقعے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے حرمین شریفین کی سلامتی کو سرخ لکیر قرار دیا تاہم حوثی قیادت نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے الزام کو مسترد کردیا اور اسے سعودی پروپیگنڈا قرار دیا۔حوثی فریق نے سعودی عرب کے خلاف دیگر فوجی کارروائیوں کے دعوے بھی کیے ہیں۔حوثی فوجی ترجمان کے مطابق سعودی عرب کے ینبع میں آرامکو کی تنصیب اور خمیس مشیط کے فوجی اڈے کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔حوثیوں نے سعودی ایف 15 جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا تاہم ان دعووں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

سعودی عرب نے دوسری جانب حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کو اپنی خودمختاری اور شہری تنصیبات کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔سعودی حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں مختلف شہروں میں سائرن بجائے گئے جبکہ ینبع سمیت متعدد علاقوں میں خطرے کے انتباہات جاری کیے گئے۔سعودی شہری دفاع کے مطابق بعض شہروں میں بعد ازاں خطرہ ٹلنے کا اعلان بھی کیا گیا۔یمن کی صورتحال نے سعودی عرب کو ایک پیچیدہ علاقائی صورت حال سے دوچار کردیا ہے۔ایک طرف حوثی فورسز بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہیں،دوسری جانب امریکا براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کرتے ہوئے حوثیوں کے ساتھ رابطے کا راستہ بھی کھلا رکھے ہوئے ہے۔اس صورت حال میں سعودی عرب کے سامنے سفارتی مذاکرات،علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعاون اور حوثیوں کے خلاف مزید فوجی اقدامات سمیت مختلف راستے موجود ہیں تاہم ان میں سے کسی ایک حکمت عملی کے حتمی انتخاب کا اعلان سعودی حکومت کی جانب سے نہیں کیا گیا۔

یمن میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال نے نہ صرف سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا ہے بلکہ بحیرہ احمر،باب المندب،توانائی کی عالمی ترسیل اور علاقائی طاقتوں کے باہمی تعلقات کو بھی براہِ راست متاثر کیا ہے۔امریکی اور حوثی نمائندوں کے درمیان مسقط میں رابطہ اور واشنگٹن کی جانب سے سعودی عرب کو براہِ راست فوجی مدد فراہم نہ کرنے کا فیصلہ اس وسیع تر علاقائی بحران میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز