واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکا نے ایران کے منجمد اثاثوں کے استعمال اور نگرانی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں خصوصی آپریشنل سیل قائم کرنے کا اعلان کیا ہے،جو ان فنڈز کی تقسیم اور استعمال پر نظر رکھے گا۔امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایران کے اثاثوں کو شفاف طریقے سے انسانی ضروریات،خصوصاً خوراک اور ادویات کی خریداری کے لیے استعمال یقینی بنانا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ اس سیل کے ذریعے ایران کے منجمد فنڈز کے اجرا اور استعمال کی براہ راست نگرانی کرے گا۔ سکاٹ بیسنٹ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان فنڈز کا بڑا حصہ خوراک اور دواسازی کی مصنوعات کی خریداری پر خرچ کیا جائے گا، جس میں امریکی مصنوعات کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ایران کو دستیاب ہونے والی رقوم بنیادی طور پر عوامی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہونی چاہئیں اور اس مقصد کے لیے ایک منظم نگرانی کا نظام ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق یہ فنڈز ممکنہ طور پر قطر کے ذریعے جاری کیے جائیں گے جبکہ امریکی حکام ان کے استعمال پر مسلسل نظر رکھیں گے۔امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طریقہ کار سے نہ صرف ایران میں انسانی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ خوراک اور ادویات کی خریداری کے ذریعے یہ سرمایہ بالواسطہ طور پر امریکی معیشت میں بھی واپس آئے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران نے امریکا سے زرعی یا طبی مصنوعات خریدنے پر کسی قسم کی رضامندی ظاہر نہیں کی۔ان کا کہنا ہے کہ منجمد فنڈز کے استعمال کا اختیار مکمل طور پر ایران کے پاس ہے اور وہ خود طے کرے گا کہ ان وسائل کو کہاں اور کیسے خرچ کیا جائے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی یہ بیان دے چکے ہیں کہ ایران کے بعض فنڈز کو امریکی زرعی اجناس،جن میں مکئی،گندم اور سویابین شامل ہیں،کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ان کا موقف ہے کہ ایران کو خوراک کی ضرورت ہے اور امریکا اس ضرورت کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یاد رہے کہ ایران کے اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے مختلف بین الاقوامی پابندیوں کے باعث بیرون ملک منجمد ہیں اور ان فنڈز کے استعمال کا معاملہ طویل عرصے سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی کشیدگی کا اہم سبب رہا ہے۔