لندن(ایگزو نیوز ڈیسک)برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واضح اور دبنگ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں کسی بھی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے امریکی دباو کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اپنی قومی سلامتی اور عوام کے مفادات کو اولین ترجیح دے گا اور مشرقِ وسطیٰ میں فوجی تعیناتی یا مداخلت نہیں کرے گا۔کیئر سٹارمر نے خبردار کیا کہ اگر جنگ جلد ختم نہ ہوئی تو اس کے عالمی اور برطانوی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور اسی لیے برطانیہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے پر توجہ دے رہا ہے تاکہ امن اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پریس کانفرنس کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ برطانیہ کسی بھی صورت ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں حصہ نہیں لے گا اور مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی فوجی کارروائی میں مداخلت نہیں کرے گا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ جنگ جلد ختم نہ ہوئی تو عالمی معیشت اور برطانیہ کی ملکی معیشت دونوں کو سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے۔کیئر سٹارمرنے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے اثرات اگلی نسلوں پر بھی مرتب ہوں گے،اس لیے برطانیہ کا طویل مدتی مفاد ہے کہ وہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے برطانیہ کے جنگ میں شامل نہ ہونے پر تنقید کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی دباو میں آ کر ملک کو جنگ میں نہیں جھونکیں گے،یہ جنگ برطانیہ کی جنگ نہیں ہے اور نہ ہی برطانیہ کا اس تنازع سے کوئی براہِ راست تعلق ہے،ان کی اولین ترجیح برطانیہ اور اس کے عوام کا مفاد اور قومی سلامتی ہے۔کیئر سٹارمر نے کہا کہ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے،امن قائم کرنے کے لیے سفارتی اقدامات جاری ہیں اور کسی بھی فوجی کارروائی میں شمولیت نہیں ہو گی۔
برطانوی وزیراعظم نے مزید کہا کہ برطانیہ اس ہفتے اتحادی ممالک کے اہم اجلاس کی میزبانی کرے گا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا ہے، اور اس کوشش میں 35 ممالک شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی دباو کے باوجود برطانیہ اپنے عوام اور ملکی مفادات کی حفاظت کو اولین ترجیح دے رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی اس واضح پوزیشن سے یورپی ممالک کے درمیان اتحاد مضبوط ہوگا اور عالمی طاقتوں کو مشرقِ وسطیٰ میں فوجی مداخلت کے لیے دباو کم کرنے کا پیغام جائے گا، جبکہ اس سے عالمی اور برطانوی معیشت کو غیر ضروری نقصان سے بچانے میں بھی مدد ملے گی۔