لندن(ایگزو نیوز ڈیسک)آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے،جہاں برطانیہ نے ایران جنگ میں کسی بھی فوجی کردار سے واضح طور پر انکار کرتے ہوئے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔اسی دوران فرانس اور آسٹریلیا کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات نے عالمی سطح پر جاری سفارتی اور عسکری بحث کو نئی سمت دے دی ہے، جس کے بعد خطے میں مستقبل کی حکمت عملی پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ ایران جنگ میں کسی بھی صورت شامل نہیں ہوگا اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی حمایت بھی نہیں کی جائے گی،کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے قانونی جواز اور واضح حکمت عملی ناگزیر ہے جبکہ موجودہ صورتحال کا حل صرف سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ کا موقف جنگ نہیں بلکہ امن ہے اور آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی تجارتی راستے کو ہر صورت کھلا رکھنا ضروری ہے،تنازع کا فوری اور پائیدار حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی موقف اختیار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور بلا رکاوٹ جہاز رانی عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔ان کے مطابق فرانس اور برطانیہ مل کر ایک کثیرالاقوامی امن مشن کے لیے کانفرنس منعقد کرنے جا رہے ہیں تاکہ صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔اسی طرح آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات میں ان کی حکومت کو کسی فوجی اتحاد کا حصہ نہیں بنایا گیا جبکہ ترک وزیر خارجہ حقان فدان نے زور دیا کہ اس بحران کا حل صرف سفارت کاری ہے اور کسی بین الاقوامی فوجی فورس کی تعیناتی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق عالمی طاقتوں کے مختلف اور بعض اوقات متضاد بیانات نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی اہمیت کے باعث دنیا بھر میں توانائی اور تجارتی منڈیوں پر بھی اس بحران کے اثرات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔