Home » برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کا تاریخی منصوبہ،سائنسدانوں اور ماہرین تعلیم کے لیے ویزا فیس مکمل ختم کرنے کا فیصلہ

برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کا تاریخی منصوبہ،سائنسدانوں اور ماہرین تعلیم کے لیے ویزا فیس مکمل ختم کرنے کا فیصلہ

by ahmedportugal
458 views
A+A-
Reset

لندن(ایگزو نیوز ڈیسک)برطانیہ کی حکومت عالمی سطح پر بہترین صلاحیتوں کے حامل افراد کو اپنی معیشت کا حصہ بنانے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھانے جا رہی ہے۔ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی قیادت میں قائم “گلوبل ٹیلنٹ ٹاسک فورس” اس بات پر غور کر رہی ہے کہ دنیا کے نامور سائنسدانوں، ماہرین تعلیم اور ڈیجیٹل ماہرین کے لیے ویزا فیس مکمل طور پر ختم کر دی جائے تاکہ وہ بلا رکاوٹ انگلینڈ میں آ کر اپنی خدمات پیش کر سکیں۔ اس مجوزہ منصوبے کو برطانیہ کی اقتصادی پالیسی کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ صرف وہ افراد اس سہولت کے مستحق ہوں گے جنہوں نے دنیا کی پانچ اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی ہو یا کسی عالمی شہرت یافتہ اور باوقار ایوارڈ کے ذریعے اپنی قابلیت منوائی ہو۔ اس طرح برطانیہ اپنی سرزمین کو عالمی معیار کے محققین اور ماہرین کے لیے پرکشش مقام بنا سکتا ہے اور بالخصوص ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر ہنر مند افراد کے لیے مسابقت بڑھ چکی ہے، یہ قدم برطانیہ کو ایک نمایاں برتری دلا سکتا ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے نئی H-1B ویزا درخواستوں پر ایک لاکھ ڈالر کی خطیر فیس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ وہی ویزا ہے جو امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے غیر ملکی ماہرین کی بھرتی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ امریکی فیصلے کے بعد عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، اور برطانوی حکام اس موقع کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دے رہے ہیں۔برطانیہ میں فی الوقت گلوبل ٹیلنٹ ویزا کی فیس 766 پاو¿نڈ ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً تین لاکھ روپے بنتی ہے۔ اگر کوئی امیدوار اپنی فیملی کے ساتھ برطانیہ منتقل ہونا چاہے تو شریک حیات اور بچوں پر بھی یہی فیس لاگو ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں چار افراد پر مشتمل فیملی کو صرف ویزا فیس کی مد میں تقریباً 12 لاکھ روپے تک ادا کرنے پڑتے ہیں۔ یہ بھاری مالی بوجھ نہ صرف امیدواروں کے لیے رکاوٹ ہے بلکہ برطانیہ کے لیے بھی عالمی سطح پر اعلیٰ دماغوں کو راغب کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو برطانیہ عالمی ہنر مندی کی دوڑ میں ایک فیصلہ کن برتری حاصل کر سکتا ہے۔ امریکی اقدامات کے برعکس، لندن ایک ایسا پیغام دے گا کہ وہ دنیا کے ذہین ترین افراد کے لیے کھلا اور کشادہ دل رکھنے والا ملک ہے، جو اپنی معیشت اور سائنس و ٹیکنالوجی کو نئی بلندیوں پر لے جانا چاہتا ہے۔برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تجویز 26 نومبر کے بجٹ سے قبل اقتصادی ترقی کو تقویت دینے کے سلسلے میں ایک بڑے پیکیج کا حصہ بن سکتی ہے۔ سیاسی اور اقتصادی مبصرین کے مطابق یہ قدم نہ صرف برطانیہ کو ہنر مند افرادی قوت کا مرکز بنا سکتا ہے بلکہ سرمایہ کاری، تحقیق اور ڈیجیٹل معیشت میں بھی ایک نئی لہر پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز