لندن(ایگزو نیوز ڈیسک)برطانیہ میں تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلی کی تیاری کرتے ہوئے سکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اہم فیصلہ سامنے آ گیا ہے،جس کے تحت سخت قوانین متعارف کروانے کیلئے نیا مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔اس اقدام کو تعلیمی ماحول بہتر بنانے اور طلبہ کی توجہ تعلیم پر مرکوز رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابقبرطانوی حکومت نے تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے سکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت سکول انتظامیہ کو اس حوالے سے واضح قانونی اختیار فراہم کیا جائے گا۔اس اقدام کو طلبہ کی توجہ تعلیم پر مرکوز کرنے اور کلاس روم کے ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔وزیر تعلیم جیکی اسمتھ کے مطابق مجوزہ قانون پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا،جس کی منظوری کے بعد سکولز کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ اپنے اداروں میں موبائل فون کے استعمال پر مکمل یا جزوی پابندی نافذ کر سکیں۔
حکومتی موقف ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف تعلیمی ماحول بہتر ہوگا بلکہ طلبہ کی کارکردگی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔اپوزیشن جماعت کنزرویٹو پارٹی نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ مختلف تعلیمی اداروں کی جانب سے پہلے ہی اس نوعیت کی قانون سازی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔سکولز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موبائل فون کی وجہ سے طلبہ کی توجہ متاثر ہوتی ہے اور نظم و ضبط کے مسائل پیدا ہوتے ہیں،اس لیے اس پابندی کو وقت کی اہم ضرورت سمجھا جا رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ریگولیٹری اتھارٹی اس قانون کے اطلاق اور اس پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گی تاکہ سکولوں میں اس پالیسی کو موثر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا اور اس سے سیکھنے کا ماحول مزید سازگار بنے گا۔