لندن(ایگزو نیوز ڈیسک)آبنائے ہرمز میں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر برطانیہ نے جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک کثیرالملکی دفاعی مشن میں فعال کردار ادا کرنے کا اعلان کر دیا ہے،جس کے تحت جدید خودکار مائن ہنٹنگ آلات،جنگی طیارے اور جنگی جہاز تعینات کیے جائیں گے۔یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانا انتہائی اہم بن چکا ہے۔
برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے چالیس سے زائد ممالک کے وزرائے دفاع کے ساتھ ہونے والے ورچوئل اجلاس کے دوران اس اقدام کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ مشن حالات کے مطابق فعال کیا جائے گا اور اس کا مقصد خطے میں استحکام اور بحری سلامتی کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر قائم کیا جانے والا یہ مشن دفاعی نوعیت کا حامل،خودمختار اور موثر ہوگا۔برطانیہ نے اس مشن کے لیے ایک خطیر رقم مختص کرتے ہوئے جدید مائن ہنٹنگ ڈرونز اور کاونٹر ڈرون سسٹمز کی خریداری کا بھی اعلان کیا ہے۔ان جدید نظاموں کی مدد سے بحری بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور انہیں ناکارہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہوگی، جو جہاز رانی کے لیے درپیش خطرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔اس کے علاوہ رائل نیوی کا جدید نظام بھی اس مشن میں شامل کیا جائے گا،جو تیز رفتار خودکار ڈرون کشتیوں کے ذریعے سمندری حدود میں ممکنہ خطرات کی نگرانی اور فوری ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔برطانوی فوجی پیکج میں جدید جنگی طیارے بھی شامل ہوں گے جو آبنائے ہرمز کے اوپر مسلسل فضائی نگرانی کے لیے تیار رہیں گے جبکہ خصوصی مائن کلیئرنس ماہرین بھی اس مشن کا حصہ ہوں گے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
ادھر برطانوی بحریہ کا ایک جدید جنگی جہاز پہلے ہی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کیا جا چکا ہے،جس کے عملے کو خصوصی تربیت فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ آپریشن کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں۔اس جہاز کو جدید فضائی دفاعی نظام اور ڈرون مخالف ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا ہے،جو اسے بدلتی ہوئی جنگی صورتحال میں موثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔واضح رہے کہ برطانیہ کا یہ اقدام نہ صرف خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور تجارتی راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ایک بڑی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے،جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔