Home » یو اے ای کا عالمی توانائی نظام کو بڑا جھٹکا،اوپیک اور اوپیک پلس چھوڑنے کا اعلان،عالمی معیشت پر گہرے اثرات کا خدشہ

یو اے ای کا عالمی توانائی نظام کو بڑا جھٹکا،اوپیک اور اوپیک پلس چھوڑنے کا اعلان،عالمی معیشت پر گہرے اثرات کا خدشہ

by ahmedportugal
5 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)متحدہ عرب امارات (یو اے ای)کی جانب سے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کے اعلان نے عالمی توانائی نظام میں غیر معمولی ہلچل پیدا کر دی ہے، جسے ماہرین ایک بڑے اسٹریٹجک موڑ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد نہ صرف عالمی تیل مارکیٹ بلکہ مجموعی عالمی معیشت پر بھی گہرے اور دور رس اثرات کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں جبکہ خلیجی خطے کی سیاسی و معاشی صف بندی میں بھی بڑی تبدیلیوں کا امکان بڑھ گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق متحدہ عرب امارات نے تیل برآمد کرنے والے بڑے عالمی اتحاد اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد عالمی توانائی منڈی اور خلیجی سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔یو اے ای کی جانب سے یہ اعلان منگل کو کیا گیا،جس میں کہا گیا کہ فیصلہ ملک کی تیل پیداوار کی پالیسی اور موجودہ و مستقبل کی صلاحیتوں کا جامع جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔سرکاری بیان کے مطابق یہ اقدام قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اور عالمی توانائی مارکیٹ کی ضروریات کو موثر انداز میں پورا کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ کشیدگی اور خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال نے عالمی تیل سپلائی چین کو متاثر کر رکھا ہے جبکہ خلیج عرب اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث ترسیل کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ماہرین کے مطابق دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور گیس اسی گزرگاہ سے گزرتی ہے،جس پر حالیہ خطرات عالمی منڈی میں غیر یقینی کو بڑھا رہے ہیں۔

یو اے ای نے واضح کیا ہے کہ اس کا فیصلہ یکم مئی سے نافذ العمل ہوگا اور طویل المدتی بنیادوں پر عالمی توانائی کی طلب میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں کو زیادہ لچکدار بنانا مقصود ہے۔ماہرین اس فیصلے کو اوپیک کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں کیونکہ یو اے ای طویل عرصے سے تنظیم کا ایک اہم اور بااثر رکن رہا ہے۔ان کے مطابق اس انخلا سے نہ صرف اوپیک کے اندر اتحاد کمزور پڑ سکتا ہے بلکہ رکن ممالک کے درمیان پہلے سے موجود پیداوار اور سیاسی اختلافات بھی شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ادھر اس پیش رفت کو ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے،جو ماضی میں اوپیک پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھانے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یو اے ای کا یہ قدم امریکی پالیسی کے لیے ایک سفارتی کامیابی کے طور پر بھی لیا جا سکتا ہے۔علاوہ ازیں یو اے ای نے خطے میں حالیہ کشیدگی کے دوران دیگر خلیجی ممالک کی جانب سے محدود حمایت پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔یو اے ای کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے خلیجی تعاون کے ردعمل کو کمزور قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اور عسکری سطح پر مطلوبہ ہم آہنگی دیکھنے میں نہیں آئی۔واضح رہے کہ اوپیک کی بنیاد 1960 میں رکھی گئی تھی،جس کا مقصد رکن ممالک کی تیل پالیسیوں کو ہم آہنگ کرنا اور عالمی مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔بعد ازاں 2016 میں روس سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اوپیک پلس تشکیل دیا گیا تاکہ عالمی تیل کی قیمتوں اور پیداوار کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کنٹرول کیا جا سکے۔واضح رہے کہ یو اے ای کا یہ فیصلہ نہ صرف عالمی تیل منڈی بلکہ خلیجی سیاسی اتحاد کے مستقبل پر بھی گہرے اور دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز