دبئی(ایگزو نیوز ڈیسک)متحدہ عرب امارات(یو اے ای) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت قائم کیے گئے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے اور اس طرح وہ پہلا اسلامی ملک بن گیا ہے جس نے عالمی سطح پر اس امریکی اقدام کی کھل کر حمایت کی ہے۔ فرانس نے بورڈ میں شامل ہونے سے صاف انکار کیا ہے جبکہ یورپی اتحادی ممالک محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، جس سے عالمی سیاست میں اس منصوبے کے اطلاق اور فلسطینی امور پر اثرات کے حوالے سے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ بورڈ کی سربراہی خود صدر ٹرمپ کریں گے اور ابتدائی ارکان میں اہم عالمی شخصیات شامل ہیں، جو اس منصوبے کی عالمی اہمیت اور ممکنہ اثرات کو واضح کرتے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت قائم کیے گئے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت قبول کرلی ہے۔یہ اعلان منگل کو یو اے ای کی وزارت خارجہ نے جاری کردہ بیان میں کیا،جس میں کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات بورڈ آف پیس میں فعال شمولیت اور عملی تعاون کے لیے تیار ہے اور عالمی سطح پر استحکام، خوشحالی اور تعاون کے فروغ کے لیے امریکہ کے ساتھ کام کرے گا۔یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے بھی بورڈ میں شمولیت کی دعوت قبول کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے لیے 20 نکاتی امن منصوبے کے مکمل نفاذ کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے،جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول کے لیے نہایت اہم ہے۔اس شمولیت کے بعد متحدہ عرب امارات نہ صرف پہلا مسلم ملک بن گیا ہے بلکہ وہ اوّلین ممالک میں شامل ہوگیا ہے جس نے کھل کر امریکی اس اقدام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
بورڈ آف پیس کی سربراہی براہِ راست صدر ٹرمپ خود کریں گے جبکہ ابتدائی رکن ممالک میں ٹونی بلیئر،امریکی وزیر خارجہ،ٹرمپ کے داماد اور دیگر ٹیکنوکریٹس شامل ہیں۔اب تک یورپی ممالک میں ہنگری نے بغیر کسی شرط کے بورڈ میں شامل ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے شمولیت کا عندیہ دیا ہے تاہم باضابطہ اعلان ابھی نہیں ہوا۔کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی اصولی طور پر آمادگی ظاہر کی ہے مگر حتمی فیصلہ چارٹر کے جائزے کے بعد کیا جائے گا۔دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے بورڈ آف پیس میں شمولیت سے صاف انکار کیا،جس پر امریکی صدر نے فرانسیسی شراب پر 200 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی۔فرانسیسی صدر نے امریکی دباو نا قابلِ قبول قرار دیتے ہوئے یہ اعلان مسترد کر دیا،جس کے بعد صدر ٹرمپ نے تنبیہ کی کہ ایمانویل میکرون زیادہ عرصے تک فرانس کے صدر نہیں رہیں گے۔اس دوران دیگر امریکی اتحادی ممالک جیسے جرمنی،سپین،نیدرلینڈز،سویڈن،جاپان اور برطانیہ نے بھی اس بورڈ میں شمولیت سے احتیاط برتی ہے جبکہ اقوام متحدہ نے بھی اس منصوبے پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔
خیال رہے کہ بورڈ آف پیس کی سربراہی تا حیات صدر ٹرمپ کے پاس ہوگی جبکہ رکن ممالک کی مدت تین سال ہوگی تاہم کوئی ملک اگر ایک ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرتا ہے تو وہ بورڈ کی سرگرمیوں میں مستقل رکنیت حاصل کر سکتا ہے،جس سے عالمی سطح پر اثر و رسوخ اور شراکت داری کا دائرہ وسیع ہو گا۔اس فیصلے کے بعد عالمی سیاست میں نئے محاذ کھلنے کی توقع ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ دیگر مسلم اور غیر مسلم ممالک بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا فیصلہ کس انداز میں کریں گے جبکہ فلسطینی امور پر اس امریکی اقدام کے اثرات بھی قابلِ غور ہوں گے۔