لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہورہی ہے، پرانی آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کے لیے آئندہ ماہ سے تقریباً 5 ارب ڈالر کے عملی سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط شروع ہونے کی توقع ہے جبکہ تقریباً دو دہائیوں کے وقفے کے بعد پاکستان کے سمندری حدود میں آف شور تیل و گیس کی تلاش کا عمل بھی دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور میں ایک تقریب سے خطاب اور بعد ازاں پریس کانفرنس کے دوران علی پرویز ملک نے بتایا کہ ریفائنری پالیسی میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد ملکی آئل ریفائنریز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے آئندہ ماہ سے حقیقی سرمایہ کاری کے معاہدوں کا سلسلہ شروع ہونے کی توقع ہے۔ان کے مطابق یہ محض مفاہمت کی یادداشتیں یا اعلانات نہیں ہوں گے بلکہ عملی سرمایہ کاری کے معاہدے ہوں گے،جن کے ذریعے موجودہ ریفائنری انفراسٹرکچر کو جدید بنایا جائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ریفائنریز کی اپ گریڈیشن پر ہونے والی اس بھاری سرمایہ کاری کا مقصد ملک کی مقامی ریفائننگ صلاحیت میں اضافہ اور بالخصوص ڈیزل سمیت اہم پیٹرولیم مصنوعات کی ملکی پیداوار بڑھانا ہے،جدید ٹیکنالوجی اور بہتر پیداواری صلاحیت کے ذریعے درآمدی ضروریات میں کمی لانے کی کوشش کی جائے گی۔
علی پرویز ملک نے نشاندہی کی کہ پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد درآمد کرتا ہے،جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں براہ راست ملکی معیشت اور مقامی ایندھن کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہیں،درآمدی تیل پر اس قدر زیادہ انحصار ملکی توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے،جس سے نمٹنے کے لیے مقامی پیداوار اور ریفائننگ صلاحیت میں اضافہ ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان کی موجودہ ریفائنریز کئی دہائیوں سے مطلوبہ سطح کی سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث پرانی ہوچکی ہیں،جس کے نتیجے میں ان کی پیداواری استعداد اور کارکردگی جدید تقاضوں کے مطابق نہیں رہی۔ان کا کہنا تھا کہ ان ریفائنریز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری درکار ہے اور حکومت اسی مقصد کے تحت پالیسی اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاری کا ماحول بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے سمندری علاقوں میں تیل و گیس کی تلاش کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔علی پرویز ملک نے بتایا کہ حکومت تقریباً دو دہائیوں کے وقفے کے بعد پاکستان کے سمندری علاقے میں آف شور تیل و گیس کی تلاش کا عمل دوبارہ شروع کرنے جارہی ہے،جسے ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ کی کمپنی ترکش پیٹرولیم پاکستان کے سمندری پانیوں میں سیسمک سروے کے لیے اپنا بحری جہاز لائے گی،جس کے بعد پاکستان اور ترکیہ مل کر آف شور ڈرلنگ کے عمل کو آگے بڑھائیں گے۔وفاقی وزیر کے مطابق سمندری علاقے میں ڈرلنگ کا آغاز ستمبر یا اکتوبر کے دوران متوقع ہے۔علی پرویز ملک نے امید ظاہر کی کہ آف شور تیل و گیس کی تلاش کے نتیجے میں اگر خاطر خواہ ذخائر دریافت ہوتے ہیں تو اس سے پاکستان کے توانائی کے منظرنامے میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے اور اس شعبے میں مزید بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔ان کے مطابق مقامی توانائی کے وسائل کی تلاش نہ صرف درآمدی بل کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے بلکہ ملک کی مجموعی توانائی سلامتی کو بھی مضبوط بنا سکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ 1500 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران اس قرضے میں مزید اضافے کو روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ زیر التوا واجبات کے مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ بھی کام جاری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں موجود مالیاتی مسائل کے پائیدار حل کے بغیر ملک میں توانائی کے نظام کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنا مشکل ہوگا،اس لیے حکومت ایک طرف سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کررہی ہے تو دوسری جانب شعبے کے گردشی قرضے سمیت دیرینہ مسائل سے نمٹنے کے لیے بھی اقدامات کررہی ہے۔
پیٹرولیم وزیر نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف دینے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول اگرچہ آج بھی مہنگا ہے تاہم ملک میں پیٹرول کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی اور حکومت نے ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی۔انہوں نے خطے کے بعض دیگر ممالک میں ایندھن کی دستیابی سے متعلق صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں شہریوں کو شناختی کارڈ دکھانے کے بعد محدود مقدار میں پیٹرول فراہم کیا جارہا ہے جبکہ پاکستان میں حکومت نے ایندھن کی سپلائی برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔
علی پرویز ملک نے ملکی سیاست اور حکومت کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن عملی سیاست پر یقین رکھتی ہے،نواز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ایٹمی طاقت بن کر اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا اور ملک کو ناقابل تسخیر بنایا۔وفاقی وزیر نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے دوران پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور تحفظ کے ضامن کے طور پر سامنے آیا،مکہ مشترکہ معاہدہ بھی پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے جبکہ سعودی عرب کی معاشی قوت،ترکیہ کی ترقی اور پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں مل کر خطے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور صلاحیتوں کا پوری دنیا اعتراف کرتی ہے،ایران امریکا جنگ کے دوران ملک کو معاشی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا تاہم وزیر اعظم شہباز شریف نے مشکل فیصلے کرکے معیشت کو آگے بڑھانے کی کوشش کی اور اب اگلی منزل معاشی میدان میں کامیابیاں حاصل کرنا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق توانائی کے شعبے میں مقامی وسائل کی تلاش، موجودہ ریفائنریز کی جدید کاری اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ پاکستان کی مستقبل کی توانائی ضروریات کے لیے انتہائی اہم ہے۔اگر آف شور تیل و گیس کی تلاش میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوتی ہے اور ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کا عمل بھی مقررہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھتا ہے تو اس سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے،مقامی پیداوار بڑھانے اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔حکومت کی جانب سے سامنے آنے والے ان منصوبوں کا اصل امتحان اب اعلانات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہو گا۔ 5 ارب ڈالر کی ریفائنری سرمایہ کاری،سمندری علاقوں میں آف شور ایکسپلوریشن اور ممکنہ تیل و گیس ذخائر کی تلاش ایسے اقدامات ہیں جو پاکستان کے توانائی بحران سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں تاہم ان کے نتائج کا انحصار سرمایہ کاری کے عملی نفاذ،شفاف پالیسیوں،تکنیکی کامیابی اور طویل المدتی تسلسل پر ہو گا۔