لندن(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال نے جہاں مشرقِ وسطیٰ کو متاثر کیا وہیں امریکا کے عالمی اتحاد کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلوں اور سخت بیانات کے بعد یورپ،خلیجی ممالک اور ایشیا میں سفارتی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ کئی دیرینہ اتحادی پہلی بار کھل کر واشنگٹن کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے دکھائی دے رہے ہیں،جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکا بتدریج عالمی سطح پر تنہائی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلوں، سخت بیانات اور عسکری اقدامات کے باعث یورپ،خلیجی ریاستوں اور ایشیا میں سفارتی بے چینی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ کئی دیرینہ اتحادی ممالک پہلی بار کھل کر واشنگٹن کی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً دس ہفتوں سے کشیدگی جاری ہے،جس کے باوجود بیک چینل سفارتکاری اور جنگ بندی کی کوششیں بھی جاری ہیں تاہم اسی دوران ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات نے اتحادی ممالک میں اعتماد کے فقدان کو مزید گہرا کر دیا ہے۔یورپی ممالک میں یہ خدشہ شدت اختیار کر گیا ہے کہ امریکا اب پہلے جیسا قابلِ اعتماد شراکت دار نہیں رہا۔ جرمنی،فرانس اور دیگر یورپی ممالک امریکی پالیسیوں کو غیر متوقع قرار دیتے ہوئے اپنے دفاعی اور سفارتی معاملات میں خودمختاری بڑھانے پر غور کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یورپ اب مشترکہ دفاعی نظام اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کیے گئے۔واشنگٹن نے موقف اختیار کیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں لائے گئے،جس پر یورپی اتحادیوں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ایران نے جوابی اقدامات کے طور پر آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت محدود کر دی،جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا۔اس صورتحال نے یورپ سمیت کئی معیشتوں کو شدید دباو میں ڈال دیا،جو پہلے ہی معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہی تھیں۔خلیجی ممالک میں بھی امریکا کے رویے پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔خاص طور پر متحدہ عرب امارات پر ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کو امریکی صدر کی جانب سے معمولی قرار دینے کے بعد عرب دنیا میں بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔
مبصرین کے مطابق خلیجی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ امریکا اپنے مفادات کے تحت کسی بھی وقت پالیسی تبدیل کر سکتا ہے،چاہے اس کے اتحادیوں کے سکیورٹی مفادات متاثر ہی کیوں نہ ہوں۔ادھر یورپ میں ایک اور بڑا سفارتی جھٹکا اس وقت لگا جب جرمنی میں تعینات ہزاروں امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا گیا جبکہ اٹلی اور سپین سے بھی فوجی موجودگی کم کرنے کے اشارے دیے گئے۔اس اقدام کو نیٹو اتحادیوں پر دباو بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی صدر اس سے قبل بھی نیٹو کو “بوجھ” قرار دے چکے ہیں اور اب یہ عندیہ بھی دیا جا رہا ہے کہ امریکا نیٹو کے مشترکہ دفاعی معاہدے کی اہم شق پر نظرثانی کر سکتا ہے،جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام اتحادیوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔اس ممکنہ تبدیلی نے یورپی ممالک میں تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔
وائٹ ہاوس کے مطابق صدر ٹرمپ بعض یورپی ممالک سے اس بات پر ناراض ہیں کہ انہوں نے ایران جنگ کے دوران امریکی افواج کو اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی،جس کے باعث تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔صرف یورپ ہی نہیں بلکہ ایشیا میں بھی امریکا کی پالیسیوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں چین اور تائیوان کے درمیان ممکنہ تنازع کی صورت میں امریکا کا ردعمل غیر یقینی ہو سکتا ہے۔اس صورتحال نے خطے میں سکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب عالمی طاقتیں اس بدلتی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔روس کو تیل اور گیس کی بڑھتی قیمتوں سے معاشی فائدہ حاصل ہو رہا ہے جبکہ چین خود کو ایک متبادل اور زیادہ قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔واضح رہے کہ ایران جنگ کے اثرات محض ایک علاقائی تنازع تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ عالمی سیاست میں ایک نئے دور کی شروعات ثابت ہو سکتے ہیں،جہاں امریکا کے روایتی اتحادی بھی اب متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور ہو جائیں گے اور عالمی طاقت کا توازن بتدریج تبدیل ہوتا دکھائی دے گا۔