Home » ٹرمپ کا ایران کو بڑا انتباہ،شہباز شریف کی تعریف،جنگیں ختم کرانے کا دعویٰ

ٹرمپ کا ایران کو بڑا انتباہ،شہباز شریف کی تعریف،جنگیں ختم کرانے کا دعویٰ

by ahmedportugal
16 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کیا اور کہا کہ تہران کے معاملے پر انہیں ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے جبکہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو امریکا مزید کارروائی کرسکتا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے اپنی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے خلاف دباو برقرار رکھنے کے لیے عالمی برادری کو متحد رہنا ہوگا۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کا بھی خصوصی ذکر کیا اور انہیں بہترین شخص اور عظیم رہنما قرار دیا۔ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے اپنے کردار کا دوبارہ ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ان کی مداخلت کے نتیجے میں کروڑوں جانیں بچنے کا اعتراف کیا تھا۔ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ ان کے بقول ایرانی قیادت اس بات کا انتظار کر رہی ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکی صدر کا موقف کیا ہو گا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ خود ان انتخابات میں امیدوار نہیں ہوں گے۔ایران کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ تہران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے ایران پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایران خطے میں اپنی طاقت کا استعمال کرتا تھا، لیکن اب اس کی پوزیشن پہلے جیسی نہیں رہی۔ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے ذریعے ایرانی جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے تہران کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی تاہم ان کے مطابق ایران نے معاہدے سے اتفاق نہیں کیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی حکومت کمزور اور مایوس ہوچکی ہے اور اس کی معیشت شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ انہوں نے ایران کے خلاف عالمی اقتصادی دباو برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے دیگر ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ تہران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ٹرمپ نے اپنے خطاب میں غزہ کے حوالے سے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس میں پاکستان،قطر،اردن سمیت دیگر ممالک شریک ہیں۔انہوں نے مختلف ممالک کے درمیان جاری تنازعات کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں متعدد جنگیں ختم ہوئی ہیں۔امریکی صدر نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع میں بڑی تعداد میں فوجی ہلاک ہو رہے ہیں اور اس جنگ کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کو اپنی سفارتی کامیابیوں میں شمار کیا۔

ٹرمپ نے اپنی تقریر میں امریکا کی داخلی صورتِ حال پر بھی تفصیل سے بات کی اور اپنی انتظامیہ کی معاشی اور دفاعی پالیسیوں کو سراہا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہے،امریکی فوج مضبوط ہوئی ہے اور ملکی معیشت بھی مستحکم ہو رہی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا کے مختلف حصوں سے سرمایہ کار امریکا کا رخ کر رہے ہیں اور ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہورہا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو ایک نئے معاشی دور کی طرف لے جایا جا رہا ہے اور ان کے بقول ملک کا مستقبل روشن ہے۔امریکی صدر نے سرحدی پالیسی، فوجی طاقت اور جرائم کی شرح سے متعلق بھی اپنی حکومت کی کارکردگی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی سرحدیں پہلے سے زیادہ محفوظ ہیں اور ملک میں جرائم کی شرح طویل عرصے کی کم ترین سطح پر ہے۔ٹرمپ نے وینزویلا کا بھی ذکر کیا اور وہاں امریکی کارروائیوں کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں بڑے فیصلے کرنے والے ہیں۔ ان کے خطاب میں کیوبا اور وینزویلا سے متعلق امریکی پالیسی بھی نمایاں رہی، جبکہ کیوبا کے وفد کے حوالے سے امریکی موقف پر ردعمل بھی سامنے آیا۔ایران کے معاملے پر امریکی صدر نے دوبارہ سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تہران کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے اور وہ یہ طے کریں گے کہ آئندہ کیا قدم اٹھایا جائے۔

ان کے خطاب کے دوران ایرانی وفد کے احتجاجاً اجلاس سے واک آوٹ کرنے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا ذکر کرتے ہوئے بھی امریکی اقدامات کو اپنی حکومت کی کامیابی کے طور پر پیش کیا اور خطے میں توانائی کی ترسیل سے متعلق امریکی کردار پر بات کی۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ٹرمپ کا یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اور سفارتی کشیدگی برقرار ہے اور دونوں جانب سے بیک وقت مذاکرات اور سخت موقف کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کو امریکی فوجی دباو میں کمی اور بندرگاہی ناکہ بندی ختم کرنے سے مشروط کیا ہے، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عملی سفارت کاری کے لیے آمادگی کا عندیہ دیا ہے۔ادھر وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ چکے ہیں اور 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ پاکستانی حکومت کے مطابق وزیراعظم اپنی تقریر میں علاقائی و عالمی سلامتی کی صورتحال، مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل پر پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز