Home » امریکہ کا بگرام ایئربیس واپس لینے کا اعلان،چین کے جوہری پروگرام پر کڑی نظر رکھنے کا عندیہ،ٹرمپ کے تہلکہ خیز دعویٰ پر برطانوی وزیر اعظم بھی ہکا بکا رہ گئے

امریکہ کا بگرام ایئربیس واپس لینے کا اعلان،چین کے جوہری پروگرام پر کڑی نظر رکھنے کا عندیہ،ٹرمپ کے تہلکہ خیز دعویٰ پر برطانوی وزیر اعظم بھی ہکا بکا رہ گئے

by ahmedportugal
18 views
A+A-
Reset

لندن(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر متوقع بیان دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکہ افغانستان سے بگرام ایئربیس واپس لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم نے طالبان کو بگرام ائربیس مفت میں دے دی لیکن اب ہم اسے دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔” ٹرمپ کے اس بیان نے صحافیوں اور برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر کو بھی حیران کر دیا، جو پریس کانفرنس کے دوران لمحہ بھر کے لیے ساکت ہو گئے۔
ایگزو نیوز کے مطابق لندن میں برطانوی وزیر اعظم کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان سے باعزت طریقے سے نکلنا چاہتے تھے، بگرام ایئربیس کی اہمیت غیر معمولی ہے کیونکہ یہ اس مقام سے صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے جہاں چین اپنے جوہری ہتھیار تیار کرتا ہے، یہ سٹریٹجک مقام امریکہ کے لیے ایک فیصلہ کن عنصر بن سکتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان سے بگرام ائیر بیس کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے غیر متوقع بیان پر برطانوی وزیر اعظم ہکا بکا رہ گئے اور ان کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوئے وہ حیرت سے امریکی صدر کو دیکھنے لگے ۔واضح رہے کہ تقریباً دو دہائیوں تک بگرام ایئربیس امریکی افواج کا مرکز رہا، جہاں سے القاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ لڑی گئی۔ یہ اڈہ 77 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں موجود بیرکس اور رہائشی کمپلیکس ایک وقت میں 10 ہزار سے زائد فوجیوں کو پناہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس اڈے کی تاریخی اور سٹریٹجک اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ بیس برسوں میں تین امریکی صدورجارج ڈبلیو بش، براک اوباما اورجو باییڈن بگرام کا دورہ کر چکے ہیں۔ بگرام ایئربیس کی بنیاد سوویت یونین نے 1950 کی دہائی میں افغانستان کے صوبہ پروان میں رکھی تھی۔ 1980 کی دہائی میں افغانستان پر سوویت قبضے کے دوران یہ ان کا سب سے اہم فوجی مرکز مانا جاتا تھا۔ بعد ازاں 11 ستمبر 2001 کے حملوں اور امریکا کی جانب سے “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے اعلان کے بعد امریکی افواج نے دسمبر 2001 میں اس اڈے پر قبضہ کر لیا، جو 2021 تک برقرار رہا۔ٹرمپ کا یہ تازہ اعلان خطے میں نئی سفارتی اور عسکری بحث کو جنم دے رہا ہے، جس کے اثرات نہ صرف افغانستان بلکہ امریکہ اور چین کے تعلقات پر بھی گہرے پڑ سکتے ہیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز