Home » ٹرمپ کی عمان کو بمباری کی دھمکی،ایران کا امریکی فوجیوں پر 30 ہزار ڈالر انعام کا اعلان

ٹرمپ کی عمان کو بمباری کی دھمکی،ایران کا امریکی فوجیوں پر 30 ہزار ڈالر انعام کا اعلان

by ahmedportugal
24 views
A+A-
Reset

واشنگٹن/تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے طے پانے والی 60 روزہ مفاہمتی مدت ختم ہونے کے بعد دونوں جانب سے سخت بیانات اور دھمکیوں نے خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھا دی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمان کو خبردار کیا ہے کہ اگر مسقط آبنائے ہرمز کے معاملے میں امریکی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بنا تو واشنگٹن اس کے خلاف سخت فوجی کارروائی کرسکتا ہے جبکہ ایرانی فوج کے سربراہ جنرل امیر حاتمی نے امریکی فوجی کی ہلاکت یا گرفتاری پر 30 ہزار ڈالر انعام کا اعلان کردیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق فوکس نیوز کے صحافی ٹری ینگسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر عمان ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے میں امریکا کی کوششوں کے راستے میں آیا تو اسے شدید بمباری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ٹرمپ کی یہ دھمکی خاص طور پر اہم سمجھی جارہی ہے کیونکہ عمان طویل عرصے سے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں اور ثالثی میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔امریکی صدر نے ایران پر دباو برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر تہران سے ہتھیار ڈالنے اور سفید جھنڈا لہرانے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے ایرانی قیادت کو مشکل صورتحال سے دوچار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور یہی واشنگٹن کی بنیادی ترجیح ہے۔موجودہ بحران کے دوران ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کو جوہری صلاحیت کے عسکری استعمال سے روکنا ان کی پالیسی کا مرکزی مقصد ہے۔ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی و مذاکرات کے لیے طے کردہ 60 روزہ مفاہمتی یادداشت کی مدت آج 17 اگست کو ختم ہو رہی ہے۔اس یادداشت کا مقصد جنگ بندی برقرار رکھنا،آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت بحال کرنا اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم معاملات پر مذاکرات کا راستہ ہموار کرنا تھا تاہم مدت ختم ہونے تک دونوں فریق کسی مستقل معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔صدر ٹرمپ نے موجودہ صورتحال میں کسی فوری ڈیڈ لائن دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے معاملے میں جلد بازی نہیں کررہے۔ان کے مطابق سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے تاہم آبنائے ہرمز کا معاملہ اب تنازع کے اہم ترین نکات میں شامل ہے۔خطے میں اس آبی گزرگاہ کی بندش نے عالمی توانائی اور تجارتی راستوں پر بھی دباو بڑھایا ہے۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں پر انعام کا اعلان کشیدگی میں ایک نئی اور غیر معمولی پیش رفت ہے۔ایرانی فوج کے سربراہ جنرل امیر حاتمی کے مطابق کسی امریکی فوجی کو ہلاک یا گرفتار کرنے والے شخص کے لیے 30 ہزار ڈالر انعام مقرر کیا گیا ہے جبکہ اگر یہ کارروائی کسی ایرانی خاتون کی جانب سے انجام دی جائے تو انعام دگنا کرنے کی بات بھی کی گئی ہے۔ایرانی حکام کی جانب سے بیان کردہ اس انعامی سکیم کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ کارروائی میں استعمال ہونے والا ہتھیار فوج کی جانب سے مارکیٹ کی قیمت سے زیادہ قیمت پر خریدا جائے گا اور بعد میں اسے مستقل طور پر میوزیم میں رکھا جائے گا۔ایرانی فوجی قیادت نے اس اعلان کو جنگ کے موجودہ ماحول اور آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت کے تناظر میں پیش کیا ہے۔جنرل امیر حاتمی نے آبنائے ہرمز کو ایران کی تزویراتی طاقت کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ جنگ نے اس آبی گزرگاہ کی اہمیت اور اس سے وابستہ صلاحیتوں کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ان کے مطابق ایران اس تزویراتی برتری کو ایسے انتظام کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے جس سے مستقبل میں دوبارہ جنگ کا خطرہ کم کیا جاسکے۔

دونوں ممالک کے بیانات میں سختی ایسے وقت سامنے آرہی ہے جب آبنائے ہرمز کا مستقبل امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کا مرکزی مسئلہ بن چکا ہے۔ایران اس آبی گزرگاہ کے حوالے سے اپنے مطالبات پر قائم ہے جبکہ امریکا اسے عالمی تجارتی و بحری آمدورفت کے لیے کھولنے پر زور دے رہا ہے۔عمان اس تنازع میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ مسقط ماضی میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان بیک چینل سفارت کاری اور ثالثی میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔حالیہ صورتحال میں بھی ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں آمدورفت کے ممکنہ انتظام پر بات چیت کررہے ہیں،جس کے باعث عمان کا کردار امریکا اور ایران دونوں کے لیے حساس بن گیا ہے۔اس دوران امریکی انتظامیہ اور ایرانی قیادت کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے امکانات غیر یقینی ہیں جبکہ ثالث ممالک کی کوششیں بھی جاری ہیں۔پاکستان بھی امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں کرتا رہا ہے۔حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 60 روزہ مفاہمتی عمل کے خاتمے کے باوجود بحران ختم نہیں ہوا بلکہ آبنائے ہرمز،جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی کے معاملات نے تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔اگر سفارتی راستے فوری طور پر فعال نہ ہوئے تو امریکا،ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات برقرار رہیں گے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز