نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنے بیانات میں مزید سختی لاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے آئندہ حملوں میں ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جن میں پل اور بجلی گھر شامل ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ابھی ایران میں مکمل کارروائی کا آغاز نہیں کیا اور آنے والے دنوں میں اہداف کو مزید وسعت دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کی قیادت صورتحال سے بخوبی آگاہ ہے اور اسے فوری فیصلے کرنے ہوں گے۔صدر ٹرمپ نے اس سے قبل بھی اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اگر ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کیں تو جنگ میں شدت آ سکتی ہے اور ملک کے توانائی اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔انہوں نے آئندہ ہفتوں میں مزید سخت حملوں کا عندیہ دیتے ہوئے ایران کو سنگین نتائج سے خبردار کیا۔
دوسری جانب عالمی قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شہری ضروریات سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔جنیوا کنونشنز کے تحت جنگ کے دوران شہری ڈھانچے پر حملے ممنوع قرار دیے گئے ہیں اور فریقین کو عسکری اور غیر عسکری اہداف میں واضح فرق کرنا ہوتا ہے۔ادھر امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے سفارتی دروازے کھلے رکھنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق امریکا مسائل کے حل کے لیے سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا گیا۔اسی دوران صدر ٹرمپ نے ایران میں ایک بڑے پل کی تباہی کی ویڈیو بھی شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ یہ اہم تنصیب مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی ہے۔انہوں نے ایران کو ایک بار پھر متنبہ کیا کہ وہ فوری طور پر معاہدے کی جانب آئے بصورت دیگر صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایک جانب سخت بیانات اور ممکنہ حملوں کی دھمکیاں جبکہ دوسری جانب سفارتکاری کے اشارے،موجودہ صورتحال کو مزید پیچیدہ اور غیر یقینی بنا رہے ہیں،جس کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔