واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پاکستان کو ممکنہ مقام کے طور پر سامنے لاتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپنے اہم اشارہ دے دیا ہے،جس سے خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔انہوں نے پاکستان کو ترجیح دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ ان کی قیادت میں ملک ایک موثر اور قابلِ اعتماد سفارتی کردار ادا کر رہا ہے،جو حساس عالمی مذاکرات کے انعقاد کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق معروف امریکی اخبار”نیو یارک پوسٹ“سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ آئندہ مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت کا عندیہ دیا اور کہا ہے کہ اگلا دور آئندہ دو روز میں پاکستان میں ہونے کا امکان ہے،جہاں امریکا مذاکرات کے لیے جانے پر زیادہ مائل ہے۔امریکی صدر نے رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے ابتدا میں امریکی وفد کے پاکستان جانے کی تردید کی تاہم بعد ازاں انہوں نے خود دوبارہ رابطہ کرکے پاکستان میں مذاکرات کے امکان کی تصدیق نما اشارہ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور آئندہ دو دن میں اہم پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کے لیے پاکستان کا انتخاب زیادہ ممکن ہے،جس کی ایک بڑی وجہ ملک میں موجود قیادت کی کارکردگی ہے۔
اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ بہترین کام کر رہے ہیں اور انہی کی قیادت کی بدولت امریکا ایک بار پھر پاکستان کو سفارتی سرگرمیوں کے لیے موزوں مقام سمجھ رہا ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان جانے کا امکان زیادہ ہے اور اس کی بنیادی وجہ وہاں کی عسکری قیادت کی موثر کارکردگی ہے،جس نے خطے میں استحکام کے حوالے سے مثبت کردار ادا کیا ہے۔دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے ”رائٹرز“ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے وفود رواں ہفتے امن مذاکرات کے لیے دوبارہ اسلام آباد آ سکتے ہیں جبکہ پاکستان میں تعینات ایرانی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے بھی اس امکان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور اسی ہفتے یا آئندہ ہفتے کے آغاز میں متوقع ہے۔
اس سے قبل ایرانی حکام نے بھی عندیہ دیا تھا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور اگر اگلا دور منعقد ہوتا ہے تو پاکستان ان کی ترجیح ہو گا،جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہو گیا ہے کہ اسلام آباد ایک بار پھر اہم عالمی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن سکتا ہے۔واضح رہے کہ اگر یہ مذاکرات پاکستان میں منعقد ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے میں امن کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوگی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی مزید تقویت ملے گی۔