اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران پر آئندہ رات ”بہت سخت فوجی کارروائی“ کرنے جا رہا ہے،جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر جاری بیان میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں،جن میں بحریہ، فضائیہ، ریڈار اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں،بڑی حد تک متاثر ہو چکی ہیں اور امریکا اب مزید سخت اقدامات کرے گا۔انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ امریکا خلیج فارس کے اہم تیل مرکز ”خارگ آئی لینڈ“ سمیت دیگر سٹریٹجک تیل و گیس تنصیبات پر کنٹرول حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدامات امریکا کے سٹریٹجک مفاد میں ہیں اور مستقبل میں خطے میں توانائی کے وسائل کے انتظام سے متعلق نئی حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے۔اسی دوران امریکی میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے بات چیت جاری ہے اور ممکن ہے دونوں ممالک کے درمیان کوئی بڑا معاہدہ طے پا جائے تاہم انہوں نے ساتھ ہی ایران پر مزید سخت کارروائی کا عندیہ بھی دیا۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی کارروائیوں کو ”غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی“قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔ایرانی موقف کے مطابق حالیہ حملوں نے خطے میں پہلے سے موجود جنگ بندی کو غیر موثر بنا دیا ہے اور کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق جنوبی ایران میں فوجی اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے،جسے ”دفاعی حق کے تحت کارروائی“ قرار دیا گیا ہے جبکہ ایران نے بھی جوابی کارروائی میں خطے کے مختلف ممالک میں امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ادھر خلیج عمان میں ایک تجارتی آئل ٹینکر کو ناکارہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں،جس کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایران سے متعلق سرگرمیوں کے دوران پیش آیا۔خطے کی بگڑتی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ توانائی اور مالیاتی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔