Home » ایران کا ممکنہ حملہ؟ٹرمپ کو ترکی سے خفیہ طریقے سے برطانیہ منتقل کیے جانے کا انکشاف

ایران کا ممکنہ حملہ؟ٹرمپ کو ترکی سے خفیہ طریقے سے برطانیہ منتقل کیے جانے کا انکشاف

by ahmedportugal
17 views
A+A-
Reset

واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گزشتہ ماہ ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران ایران کی جانب سے ممکنہ خطرے کے پیش نظر ایک انتہائی غیر معمولی اور خفیہ سیکیورٹی آپریشن کے تحت عوام کی نظروں سے اوجھل کرکے ایک متبادل فوجی طیارے کے ذریعے برطانیہ منتقل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کارروائی میں پرانے ایئر فورس ون کو مبینہ طور پر ”ڈیکوائے“ کے طور پر استعمال کیا گیا جبکہ صدر کی اصل نقل و حرکت سے صحافیوں اور وائٹ ہاوس کے بعض اہلکاروں کو بھی لاعلم رکھا گیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 8 جولائی کو ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر پیش آیا،جب امریکی سیکیورٹی حکام کو ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ اور ان کے طیارے کے خلاف قابلِ اعتبار خطرے کی اطلاع ملی۔صورتحال کے پیش نظر صدر کی واپسی کے لیے پہلے سے طے شدہ منصوبے کو اچانک تبدیل کیا گیا اور ان کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنے کے لیے ایک پیچیدہ منصوبہ تیار کیا گیا۔ابتدائی طور پر امریکی حکام اور وائٹ ہاوس کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ صدر ٹرمپ ترکی سے پرانے ایئر فورس ون کے ذریعے برطانیہ روانہ ہوں گے۔ٹرمپ خود بھی کیمروں کے سامنے اسی طیارے میں سوار ہوتے دکھائی دیے، جس کے بعد وہاں موجود صحافیوں سمیت متعدد افراد کو یہی یقین رہا کہ امریکی صدر اسی طیارے میں سفر کررہے ہیں تاہم تازہ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ حقیقتاً اس طیارے میں موجود نہیں تھے۔

ایک انتہائی خفیہ سیکیورٹی منصوبے کے تحت انہیں طیارے کے مخالف سمت سے ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے باہر نکالا گیا اور ایک چھوٹے فوجی طیارے،ایئر فورس C-32A، تک منتقل کیا گیا۔اس طیارے کے ذریعے صدر کو ترکی سے برطانیہ پہنچایا گیا جبکہ صحافی اور وائٹ ہاوس کے بعض اہلکار پرانے ایئر فورس ون میں ہی روانہ ہوئے اور انہیں اس تبدیلی سے لاعلم رکھا گیا۔اس خفیہ کارروائی کا بنیادی مقصد صدر کی اصل موجودگی اور نقل و حرکت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرنا تھا تاکہ ممکنہ حملہ آور ان کے حقیقی مقام اور سفر کے بارے میں درست معلومات حاصل نہ کرسکیں۔یوں پرانا ایئر فورس ون بظاہر صدر کا طیارہ دکھائی دیتا رہا جبکہ صدر ایک دوسرے فوجی طیارے کے ذریعے برطانیہ روانہ ہوچکے تھے۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو طیارہ تبدیل کرنے کے لیے جس انداز میں منتقل کیا گیا،وہ امریکی صدر کی سیکیورٹی کے حوالے سے غیر معمولی نوعیت کا اقدام تھا۔اس پورے منصوبے کی اطلاع انتہائی محدود حکام کو تھی اور اسے چند گھنٹوں کے اندر تیار کیا گیا،جب سیکیورٹی اداروں نے ایران سے لاحق خطرے کو قابلِ اعتبار قرار دیا۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئے بوئنگ 747-8 طیارے کے ذریعے پہنچے تھے،جو قطر کی جانب سے امریکی حکومت کو تحفے میں دیا گیا تھا تاہم واپسی کے سفر میں اس طیارے کے بجائے پرانے ایئر فورس ون کے استعمال کا اعلان کیا گیا۔اس وقت ٹرمپ نے اس فیصلے کو معمولی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ”پرانے وقتوں کی یاد تازہ“ کرنے کے لیے پرانے طیارے سے سفر کریں گے۔اس وقت ہی امریکی میڈیا میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ آخر ٹرمپ نے قطر سے ملنے والے نئے طیارے کے بجائے پرانا ایئر فورس ون کیوں منتخب کیا۔بعد ازاں امریکی حکام نے بتایا کہ نئے طیارے کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات بھی زیر غور تھے،کیونکہ پرانے صدارتی طیاروں میں موجود بعض دفاعی صلاحیتیں نئے طیارے میں اسی سطح پر موجود نہیں تھیں تاہم تازہ انکشاف کے مطابق معاملہ صرف نئے طیارے کی سیکیورٹی تک محدود نہیں تھا بلکہ صدر ٹرمپ کو ایران کی جانب سے ممکنہ حملے کے خطرے کے باعث اصل میں ایک مکمل خفیہ راستہ اختیار کرنا پڑا۔

امریکی حکام کے مطابق ایران اور اس کے اتحادی پراکسی گروہوں کی جانب سے صدر کے خلاف خطرات کو سیکیورٹی ادارے سنجیدگی سے لے رہے تھے۔رپورٹس کے مطابق برطانیہ پہنچنے کے بعد ٹرمپ دوبارہ پرانے ایئر فورس ون کے ساتھ نظر آئے اور بعد ازاں قطر سے ملنے والے نئے بوئنگ 747-8 طیارے میں سوار ہوکر امریکا روانہ ہوگئے۔اس طرح عوامی طور پر یہ تاثر برقرار رہا کہ صدر نے ترکی سے پرانے ایئر فورس ون کے ذریعے برطانیہ کا سفر کیا تھا حالانکہ ان کی اصل پرواز ایک الگ فوجی طیارے سے ہوئی تھی۔اس دوران پرانے ایئر فورس ون میں سفر کرنے والے صحافیوں کو مبینہ طور پر یہ معلوم نہیں تھا کہ صدر طیارے میں موجود نہیں ہیں۔

بعض رپورٹس کے مطابق انہیں دورانِ پرواز کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی،جس سے صدر کی اصل نقل و حرکت اور طیارے کی سمت کے بارے میں مزید پردہ برقرار رکھا گیا۔یہ واقعہ امریکی صدارتی سیکیورٹی کے حوالے سے اس لیے بھی غیر معمولی قرار دیا جارہا ہے کہ اس میں نہ صرف صدر کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھا گیا بلکہ میڈیا اور بعض سرکاری اہلکاروں کو بھی غیر ارادی طور پر ایک ایسے منصوبے کا حصہ بنادیا گیا جس کا مقصد ممکنہ مخالفین کو گمراہ کرنا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ کے خلاف ایران کی جانب سے خطرات کئی برس سے موجود رہے ہیں تاہم حالیہ کشیدگی اور ایران کے ساتھ جاری تنازع کے باعث سیکیورٹی خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔اسی تناظر میں امریکی سیکیورٹی اداروں نے صدر کی نقل و حرکت کے معمول کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔تازہ انکشاف نے اس سوال کو بھی دوبارہ نمایاں کردیا ہے کہ قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے نئے بوئنگ 747-8 طیارے کو صدارتی سفر کے لیے استعمال کرنے کے حوالے سے سیکیورٹی انتظامات کس حد تک مکمل اور قابلِ اعتماد ہیں تاہم امریکی حکام کا موقف ہے کہ صدر کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور کسی بھی خطرے کی صورت میں متبادل انتظامات اختیار کیے جاسکتے ہیں۔یوں ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد صدر ٹرمپ کی واپسی کا بظاہر معمول کا سفر اب ایک انتہائی خفیہ سیکیورٹی آپریشن کے طور پر سامنے آیا ہے،جس میں ایک طیارے کو بطور ڈیکوائے استعمال کیا گیا،صدر کو خفیہ طور پر متبادل فوجی طیارے تک منتقل کیا گیا اور ان کی اصل منزل تک رسائی کے بارے میں انتہائی محدود حلقے کو معلومات فراہم کی گئیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز