واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد کہا ہے کہ ایران کی فضائی دفاعی صلاحیتیں،فضائیہ،نیوی اور عسکری قیادت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور اب مذاکرات کے لیے بہت دیر ہو چکی ہے۔انہوں نے عندیہ دیا کہ امریکا طویل مدت تک کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے ہتھیار بڑی تعداد میں تیار حالت میں موجود ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنی سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل کے ذریعے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب بات چیت کرنا چاہتا ہے تاہم میں نے کہا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو روز قبل انہوں نے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔رپورٹس کے مطابق منگل کو ایران کی جانب سے خلیجی خطے میں ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے،جن میں تیل تنصیبات اور امریکی سفارت خانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے ردعمل میں اسرائیل نے ایران پر بمباری کی جبکہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دیں۔تہران کے وسطی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے قائم کمیٹی کی عمارت بھی حملوں کی زد میں آئی۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ تہران میں نویں مرحلے کے حملے کیے گئے ہیں۔
ادھر سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے مشرقی شہر دہاران میں فوری حملے کی وارننگ جاری کی،جو ملک کے اہم تیل و گیس مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ ریاض میں امریکی سفارت خانے کی عمارت کو بھی جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔اسرائیل کے وزیر خارجہ نے عالمی دارالحکومتوں سے اپیل کی کہ وہ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کریں جبکہ چین کے وزیر خارجہ نے زور دیا کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس سے بحران مزید گہرا ہوتا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان عادل محمد نینی نے خبردار کیا کہ امریکا اور اسرائیل کو مسلسل نتائج بھگتنا ہوں گے۔ایرانی ردعمل میں اسرائیل، امریکی سفارت خانوں اور خلیجی ممالک میں واقع اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے،جس سے تیل و گیس تنصیبات،بندرگاہیں،ہوائی اڈے اور ہوٹلز متاثر ہوئے۔قطر نے اپنی ایل این جی صنعت عارضی طور پر بند کر دی جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل شدید متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔عالمی منڈیوں پر بھی اس کشیدگی کے اثرات مرتب ہوئے ہیں،جہاں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور حصص بازاروں میں مندی دیکھی گئی۔بھارت نے خطے میں مقیم اپنے تقریباً دس لاکھ شہریوں کی سلامتی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ والکر ترک نے شہریوں پر حملوں کے اثرات پر گہری تشویش ظاہر کی ہے جبکہ جوہری نگرانی کے عالمی ادارے نے سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر حالیہ نقصان کی تصدیق کی ہے۔اے ایف پی کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں اب تک چھ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایران میں سینکڑوں ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا سخت موقف اور مذاکرات کے امکان کو مسترد کرنا خطے میں کشیدگی کو مزید طول دے سکتا ہے،جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔