واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ جب تک دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ اور حتمی امن معاہدہ طے نہیں پا جاتا،اس وقت تک ایران پر عائد پابندیاں برقرار رہیں گی اور اس کے منجمد اثاثے بحال نہیں کیے جائیں گے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایک امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی اثاثوں کی بحالی کو کسی عبوری یا جزوی معاہدے سے مشروط نہیں کیا جا سکتا،بلکہ یہ صرف ایک جامع اور حتمی ڈیل کے بعد ہی ممکن ہوگی۔انہوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ امریکہ اس مرحلے پر ایران کے ساتھ کسی قلیل مدتی معاہدے میں لبنان جیسے علاقائی عوامل کو شامل کرنے پر زور دے رہا ہے۔دوسری جانب ایران کی اعلیٰ قیادت کے مشیر محسن رضائی نے امریکہ کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ تین ماہ سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکہ کی جانب سے منجمد کیے گئے تقریباً 24 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثوں کی واپسی ناگزیر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تہران اس مطالبے پر بدستور قائم ہے اور اسے کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے لیے بنیادی شرط تصور کرتا ہے۔
ادھر امریکی وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق ایران کے منجمد اثاثوں کے استعمال سے متعلق مختلف تجاویز زیر غور ہیں،جن میں ایک اہم تجویز یہ بھی ہے کہ ان فنڈز کو خلیجی اتحادی ممالک کو پہنچنے والے مالی نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کیا جائے۔اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایک خصوصی ٹیم کو ایران کے حالیہ ڈرون اور میزائل حملوں کے نتیجے میں کویت اور بحرین میں ہونے والے نقصانات کا تفصیلی تخمینہ لگانے کی ہدایت دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق واشنگٹن مستقبل میں ممکنہ نقصانات کے ازالے کے لیے بھی انہی اثاثوں کو بروئے کار لانے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے،جس سے خطے میں جاری سفارتی کوششوں اور نازک جنگ بندی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایران کے منجمد اثاثوں کے ممکنہ استعمال کا یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کو متاثر کر سکتا ہے اور پہلے سے پیچیدہ سفارتی مذاکرات کو مزید دشوار بنا سکتا ہے۔