واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی کے دوران ایک غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے امریکا میں سرکاری استعمال کے لیے لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکہ‘ رکھنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ٹرمپ نے اس اقدام کو امریکا کے مفادات اور گریٹ لیکس کے حوالے سے امریکی کردار کو اجاگر کرنے سے جوڑا ہے۔
وائٹ ہاوس کے مطابق ٹرمپ نے 27 اگست کو ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے،جس کے تحت امریکی محکمہ داخلہ اور بورڈ آن جیوگرافک نیمز کو لیک اونٹاریو کے نام کو امریکی وفاقی ریکارڈ اور نقشوں میں ’لیک امریکہ‘ سے تبدیل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ تبدیلی امریکی وفاقی استعمال سے متعلق ہے جبکہ کینیڈا پر اس نام کو تسلیم کرنے کی کوئی قانونی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ٹرمپ نے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ امریکا گریٹ لیکس کے تحفظ، بحری آمدورفت اور دیگر سہولیات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
وائٹ ہاوس کے حکم میں امریکی کوسٹ گارڈ اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے امریکا کی سرمایہ کاری کو بھی اس فیصلے کے جواز کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان تجارت اور محصولات کے معاملات پر اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں۔ٹرمپ اس سے قبل بھی کینیڈا کے ساتھ تجارتی تعلقات پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بھاری محصولات کی دھمکیاں دے چکے ہیں جبکہ جھیل کا نام تبدیل کرنے کی تجویز بھی انہوں نے حالیہ دنوں میں کینیڈا سے تجارتی تعلقات پر اپنی ناراضی کے تناظر میں پیش کی تھی۔ٹرمپ کے اس اقدام پر کینیڈا کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا۔وزیراعظم مارک کارنی نے واضح کیا کہ کینیڈین اس جھیل کو اس کے تاریخی نام لیک اونٹاریو ہی سے پکارتے رہیں گے۔یوں ایک ہی جغرافیائی مقام کے لیے امریکا اور کینیڈا میں مختلف نام استعمال ہونے کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
ٹرمپ نے جغرافیائی ناموں کی تبدیلی کے حوالے سے یہ اشارہ بھی دیا کہ مستقبل میں بحرالکاہل یا بحرِ اوقیانوس کے نام سے متعلق بھی کوئی اقدام زیر غور آسکتا ہے۔ ان کے بقول امریکا کے پاس اب ایسا کوئی سمندر نہیں جسے اس کے نام سے منسوب کیا گیا ہو۔ اس نوعیت کے بیانات کو ان کی ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی اور قومی شناخت کو نمایاں کرنے کی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر نے ایران کے حوالے سے بھی سخت موقف دہرایا اور کہا کہ تہران اس وقت شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ انہوں نے ایران کی مالی صورتحال اور ایرانی افواج کے اخراجات سے متعلق بھی دعوے کیے تاہم ان دعووں کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات 24 کشتیاں اس راستے سے گزریں اور آبنائے کھلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ اس اہم بحری گزرگاہ پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور وہاں سے تیل کی ترسیل بھی جاری ہے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکانات ختم نہیں ہوئے،امریکا ایران سے مذاکرات کے حوالے سے بھی فی الحال کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتا اور واشنگٹن صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔چین کے حوالے سے ٹرمپ نے بتایا کہ چینی صدر شی جن پنگ آئندہ دو ہفتوں کے دوران امریکا کا دورہ کرسکتے ہیں۔انہوں نے چین کے ساتھ تعلقات اور ممکنہ اقدامات کے بارے میں سوالات کے جواب میں کہا کہ امریکا اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا اور ہر ملک کے ساتھ اس کے رویے کے مطابق برتاو کیا جائے گا۔چینی بینکوں پر ممکنہ پابندیوں سے متعلق سوال پر امریکی صدر نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور اشارہ دیا کہ بعض فیصلوں کو پیشگی ظاہر نہیں کیا جائے گا۔یوں ٹرمپ کے تازہ بیانات میں بیک وقت کینیڈا کے ساتھ تجارتی کشیدگی،جغرافیائی ناموں کی تبدیلی، ایران کے خلاف دباو،آبنائے ہرمز کی صورتحال اور چین کے ساتھ تعلقات نمایاں رہے، جس سے امریکی خارجہ اور تجارتی پالیسی میں آنے والے دنوں کے ممکنہ سخت اقدامات کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔