نیو یارک(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور بھارت کے درمیان ایک اہم اور تاریخی نوعیت کے تجارتی معاہدے پر باہمی اتفاق رائے ہو گیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری اور تجارتی تعلقات کے فروغ کی جانب بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے تحت امریکا نے بھارت پر عائد جوابی ٹیرف میں نمایاں کمی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ معاہدے کے مطابق امریکی حکومت بھارتی مصنوعات پر عائد ٹیرف کو 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دے گی، جس سے بھارتی برآمدات کو ریلیف ملنے کا امکان ہے۔اس کے بدلے میں بھارت نے امریکی اشیا پر اپنے تمام ٹیرف اور غیر ٹیرف تجارتی رکاوٹیں مرحلہ وار ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی مصنوعات کو بھارتی منڈی تک بلا رکاوٹ رسائی حاصل ہو گی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام امریکی صنعت، کسانوں اور برآمد کنندگان کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا۔صدر ٹرمپ نے مزید انکشاف کیا کہ بھارت نے روس سے تیل کی خریداری روکنے پر بھی آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ان کے مطابق اب بھارت امریکا اور ممکنہ طور پر وینیزویلا سے زیادہ مقدار میں تیل خریدے گا، جس سے عالمی توانائی منڈی میں امریکا کا کردار مزید مضبوط ہوگا۔صدر ٹرمپ کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے 500 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی امریکی توانائی، ٹیکنالوجی، زرعی اور دیگر مصنوعات خریدنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے امریکی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ہزاروں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکا کے لیے “تاریخی کامیابی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ڈیل امریکی معیشت کو مزید مضبوط بنانے اور عالمی تجارت میں امریکا کی برتری قائم رکھنے کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
ٹرمپ مودی ڈیل فائنل،بھارت سرکار نے امریکی دباو کے آگے گھٹنے ٹیک دیے
22